Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2514

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ. فَقَالَ: «جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: استأذنت النبي صلى الله عليه وسلم في الجهاد. فقال: «جهادكن الحج »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے جہاد کے متعلق اجازت مانگی ۱؎تو فرمایا عورتوں کا جہاد حج ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کہ مجھے بھی میدان جہاد میں اپنے ساتھ لے چلیں،مجاہدین کی مرہم پٹی و دیگر خدمات کروں گی اور اگر ضرورت پڑی تو کفار سے لڑوں گی بھی۔
۲
؎یعنی عورتوں پر جہاد فرض نہیں حج فرض ہے اگر ان میں اس کی طاقت ہو۔خیال رہے کہ کبھی ہنگامی حالات ایسے نازک ہوجاتے ہیں کہ عورتوں کا بھی جہاد کرنا پڑتا ہے جب کہ مرد جہاد کے لیے ناکافی ہوں،کفار کا دباؤ بڑھ جائے،یہ حدیث نارمل(Normal) حالات کی ہے۔اور جن احادیث میں عورتوں کا جہاد میں جانا ثابت ہے وہ ہنگامی حالات میں ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو جوان لڑکیوں کو تعلیم کے بہانہ اکیلی پردیس میں بھیج دیتے ہیں جہاں اسکولوں میں مخلوط تعلیم دی جاتی ہے،وہ بھی عبرت پکڑیں جو جہاد پریڈ(Prade) کے بہانہ عورتوں کو بے پردہ پھراتے ہیں۔شعر
کر اب یہ فکر کہ بیٹا حج خفیفہ ہو یہ فکر چھوڑ کہ بیٹی تیری عفیفہ ہو

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2514