Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2516

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ: ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ: الْجُحْفَةَ وَ لِأَهْلِ نَجْدٍ: قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ: يَلَمْلَمَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَ لِمَنْ أَتٰى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهٗ مِنْ أَهْلِهٖ وَكَذَاكَ وَكَذَاكَ حَتّٰى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لأهل المدينة: ذا الحليفة ولأهل الشام: الجحفة و لأهل نجد: قرن المنازل ولأهل اليمن: يلملم فهن لهن و لمن أتى عليهن من غير أهلهن لمن كان يريد الحج والعمرة فمن كان دونهن فمهله من أهله وكذاك وكذاك حتى أهل مكة يهلون منها (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مدینہ والوں کے لیے جو ذوالحلیفہ کو (میقات) احرام گاہ بنایا اور شام والوں کے لیے حجفہ کو ۱؎اور نجدیوں کے لیے قرن منازل کو ۲؎اور یمن والوں کے لیے یلملم کو ۳؎یہ میقات ان کے باشندوں کے لیے بھی ہیں اور ان کے لیے بھی جو ان کا باشندہ نہ ہو مگر ان پر سے گزرے ۴؎جو حج یا عمرہ کا ارادہ کرتا ہو۵؎پھر جو ان میقاتوں کے اندر کا باشندہ ہو تو اس کا احرام اپنے گھر سے ہے اور اسی طرح حتی کہ مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھیں ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎میقات وہ جگہ کہلاتی ہے جہاں سے حاجی یا عمرہ کرنے والے کو بغیر احرام آگے بڑھنا حرام ہے۔مکہ مکرمہ کے چار راستے ہیں،ان چاروں راستوں کے لیے یہ چار حدود ہیں۔چنانچہ مدینہ والوں کے لیے مقام ذوالحلیفہ میقات ہے جو مدینہ طیبہ سے قریبًا تین میل ہے جسے اب بیر علی کہتے ہیں فقیر نے زیارت کی ہے بعض روافض کہتے ہیں کہ یہاں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے کنوئیں میں جنات سے جنگ کی تھی اس لیے اسے بیر علی کہا جاتا ہے مگر یہ محض جھوٹ ہے۔(مرقات)اب شام کے لوگ مدینہ منورہ کے راستے جاتے ہیں لہذا ا ن کا میقات بھی یہ ہی ہے ان کے پرانے راستے پر حجفہ میقات تھا،حجفہ مکہ معظمہ سے پچاس۵۰ کوس جانب شام ہے۔حجفہ کے معنی ہیں سیلاب کا بہاؤ،یہاں ایک دفعہ زبردست سیلاب آیا تھا اس لیے حجفہ نام ہوا،اصلی نام مہیعہ ہے اسے ایک شخص مہیعہ نامی نے آباد کیا تھا۔(مرقات)
۲
؎نجد کے معنی ہیں اونچی زمین غور کا مقابل،اب یہ عرب کا ایک صوبہ ہے جو یمامہ سے عراق تک پھیلا ہوا ہے قرن منازل کے معنی ہیں منزلوں کے ملنے کی جگہ یہ ایک گول پہاڑ ہے چکنا۔
۳
؎یلملم یا الملم بھی ایک پہاڑ ہے،ہندی اور پاکستانیوں کا میقات بھی یہ ہی ہے جو کامران سے نکل کر سمندر میں آتا ہے وہاں ہی ہم لوگ احرام باندھتے ہیں کیونکہ ہم لوگ براستہ عدن مکہ معظمہ جاتے ہیں،عدن یمن کا مشہور شہر ہے۔
۴
؎یعنی جو حاجی ان مقامات سے گزرے وہ ان ہی جگہوں سے احرام باندھے خواہ یمن کا باشندہ ہو۔
۵
؎یعنی احرام باندھنا ان مقامات پر اسے لازم ہے جو بارادہ حج یا عمرہ یہاں سے گزرے مگرجو مکہ معظمہ جا ہی نہ رہا ہو تو ان میقاتوں پر اسے احرام باندھنا لازم نہیں جیسے اب جو حجاج پہلے مدینہ منورہ جانا چاہیں وہ میقات سے بغیراحرام گزر جائیں،پھر زیارت مدینہ منورہ کے بعد جب مکہ معظمہ چلیں تو ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں۔امام شافعی اس جملہ کے معنی یہ کہتے ہیں کہ جو شخص مکہ معظمہ تو جارہا ہو مگر حج یا عمرہ کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کام کے لیے وہ بغیر احرام میقات سے گزر سکتا ہے،ہمارے مذہب میں بیرون میقات رہنے والا کسی نیت سے مکہ معظمہ جائے میقات پر اسے احرام لازم ہے،ہاں خود مکہ والا اگر کسی وجہ سے میقات سے باہر گیا پھر مکہ معظمہ لوٹا اسے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں جیسے دن رات مکہ معظمہ سے لوگ طائف آتے جاتے ہیں ہماری دلیل وہ حدیث ہے"لَایُجَاوِزُ اَحَدَ الْمِیْقَاتِ اِلَّا مُحْرِمًا"کوئی شخص میقات سے بغیر احرام آگے نہ بڑھے اور اس جملہ کے دو معنی ہیں جو عرض کیے گئے کہ مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کرے تو احرام باندھے۔
۶
؎یعنی میقات کے اندر رہنے والے حج کا احرام اپنے گھر سے باندھیں حتی کہ مکہ والے بھی اپنے گھر سے باندھیں لہذا جدہ والے حج یا عمرہ کا احرام گھر باندھ کر ہی چلیں۔خیال رہے کہ مکہ والے عمرہ کا احرام حرم شریف کی حدود سے باہر آکر باندھیں گے اور حج کا احرام گھر سے کیونکہ عمرہ مکہ معظمہ میں ادا ہوتا ہے اور حج بیرون حرم عرفات میں ادا ہوتا ہے تو کچھ سفر کرانے کے لیے شریعت نے مکہ کے عمرہ کے لیے یہ پابندی لگائی،اب مقام تنعیم مسجد عائشہ سے عمرہ کا احرام باندھاجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2516