Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2538

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهٗ فَإِنَّهٗ مَغْفُورٌ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا لقيت الحاج فسلم عليه وصافحه ومره أن يستغفر لك قبل أن يدخل بيته فإنه مغفور » . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب تم حاجی سے ملو ۱؎تو اسے سلام کرو اور اس سے مصافحہ کرو۲؎اور اس کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنی دعائے مغفرت کے لیے کہو کیونکہ وہ بخشا ہوا ہے ۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎ایک حاجی یا حاجیوں کی جماعت سے کہحاجدونوں پر بولا جاتا ہے۔(اشعہ)مراد وہ ہے جو حج کرکے واپس وطن آیا،عمر ہ یا زیارت مدینہ منورہ کرنے والا،غازی طالب علم بھی اسی حکم میں ہیں۔(مرقات)ان سب سے دعا کرانا چاہیے۔
۲
؎یعنی کوشش کرو کہ تم ہی سلام و مصافحہ کی ابتداء کر و،اگر حاجی غریب ہے اور تم امیرتو اسے سلام و مصافحہ کرنے میں اپنی توہین محسوس نہ کرو۔
۳
؎اور ابھی اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے کہ گھر میں نہیں پہنچا ہے،سفر ختم نہیں کیا ہے۔معلوم ہوا کہ حاجی کے آتے جاتے ہوئے راستہ کے گناہ بھی معاف ہیں،گھر میں آکر گناہ شروع ہوں گے،یہ بھی معلوم ہوا کہ مغفور لوگوں سے دعا کرانی چاہیے لہذا اولیاء اللّٰه اور چھوٹے بچوں سے دعا کر انی چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2538