Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2517

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مهل أهل المدينة من ذي الحليفة والطريق الآخر الجحفة ومهل أهل العراق من ذات عرق ومهل أهل نجد قرن ومهل أهل اليمن يلملم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مدینہ والوں کا احرام گاہ ذوالحلیفہ سے ہے اور ان کا دوسرا راستہ حجفہ ہے ۱؎اور عراق والوں کا احرام گاہ ذات عرق سے ہے ۲؎اور نجد والوں کا احرام گاہ قرن ہے اور یمن والوں کا احرام گاہ یلملم ہے۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مدینہ والے اگر براستہ شام مکہ معظمہ جائیں کہ ان کی راہ میں ذوالحلیفہ بھی آئے اور حجفہ بھی تو ان پر حجفہ سے احرام باندھنا واجب ہے لیکن اگر ذوالحلیفہ سے ہی احرام باندھ لیں تو بہتر ہے،یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے کہ جو شخص دو میقاتوں سے گزرے اس پر آخری میقات سے احرام باندھنا فرض ہے نہ کہ پہلے میقات پر،امام شافعی کے ہاں پہلے میقات پر احرام باندھنا فرض ہے،یہ حدیث ہماری تائید فرمارہی ہے۔
۲
؎عِرْقْکے لغوی معانی ہیں کنارہ دریا،چونکہ عراق کا علاقہ دجلہ و فرات کے کناروں پر ہے اس لیے اسے عراق کہتے ہیں عراق کی لمبائی عبادان سے موصل تک ہے اور چوڑائی قادسیہ سے حلوان تک ۔ذات عرق،قرن منازل کے مقابل واقع ہے،عراق کے مشہور مقامات بصرہ،بغداد،کربلا،نجف،موصل ہیں۔اگرچہ عراق و شام عہد فاروقی میں فتح ہوئے مگر چونکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو علم تھا کہ یہ علاقے فتح ہوں گے اور یہاں سے حجاج آیا کر یں گے اسی لیے ان کے میقات مقرر فرمادیئے،ان پر عمل عہد فاروقی سے ہوا،جن روایات میں ہے کہ ان دونوں میقاتوں کو حضرت عمر نے مقرر فرمایا وہاں عملی تقرر مراد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2517