Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2520

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ» . فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: " لَوْ قُلْتُهَا: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا وَالْحَجُّ مَرَّةً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوَّعَ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ والدَّارِمِيُّ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا أيها الناس إن الله كتب عليكم الحج» . فقام الأقرع بن حابس فقال: أفي كل عام يا رسول الله؟ قال: " لو قلتها: نعم لوجبت ولو وجبت لم تعملوا بها ولم تستطيعوا والحج مرة فمن زاد فتطوع ". رواه أحمد والنسائي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اے لوگو اللّٰه نے تم پر حج فرض کیا تو اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے ۱؎عر ض کیا یارسول اللّٰه کیا ہر سال فرمایا اگر ہم ہاں کہہ دیتے تو اسی طرح فرض ہوجاتا ۲؎اور اگر یہ فرض ہوتا تو تم نہ عمل کرتے اور نہ کرسکتے پس حج تو ایک بار ہی ہے جو زیادہ کیا تو نفل کیا ۳؎(احمد،نسائی، دارمی)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح پہلے گزرچکی کہ اقرع ابن حابس نے حج کو روزہ اور زکوۃ پر قیاس کیا کہ جب وہ ہر سال ہوتے ہیں تو یہ بھی ہر سال چاہیے مگر چونکہ حج ہر سال واجب ہونے میں انہیں دشواری ہوگی اس لیے یہ سوال کیا۔خیال رہے کہ حضرت اقرع بن حابس فتح مکہ کے موقعہ پر بنی تمیم کے وفد میں حاضر ہو کر اسلام لائے اسلام سے پہلے بھی اور بعد اسلام بھی بہت شاندار بتائے گئے۔
۲
؎قُلْتُھَامیںھَاکلمہ اقرع کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہاں مضاف پوشیدہ ہے یعنی اگر ہم کلمہ اقرع کے جواب میں ہاں کہہ دیتے تو ایسا ہی ہوجاتا۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم مالک احکام ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔
۳
؎یعنی مکہ والوں اور غیر مکی پر عمر میں ایک بار ہی حج فرض ہے اس کے علاوہ نفل،بعض شافعی لوگ کہتے ہیں کہ ایک بار حج فرض عین ہے اس کے سواء فرض کفایہ۔یہ حدیث ان کے صراحتًا خلاف ہے اور اس کی احکام شرعیہ میں نظیر بھی نہیں ملتی ہاں جسے خدا قدرت دے اسے ہر پانچ سال میں ایک بار حج کرنا مستحب ہے۔ابن حبان نے مرفوعًا روایت کی کہ فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جسے خدا تندرستی،مال اور قدرت دے،پھر وہ پانچ سال تک حج نہ کرے وہ محروم ہے،بعض لوگوں نے اس حدیث کی بنا پر پانچ سال میں ایک بار حج واجب مانا ہے مگر یہ خلاف اجماع ہے۔(مر قات)
۴
؎اسے دارقطنی،حاکم،ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیاعَلٰی شَرْطِشَیْخَیْنِفرمایا۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2520