Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2521

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهٗ إِلٰى بَيْتِ اللّٰه وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذٰلِكَ أَنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى يَقُولُ: (وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي إِسْنَادِهٖ مَقَالٌ وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ مَجْهُولٌ وَالْحَارِثُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ

وعن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ملك زادا وراحلة تبلغه إلى بيت الله ولم يحج فلا عليه أن يموت يهوديا أو نصرانيا وذلك أن الله تبارك وتعالى يقول: (ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا)رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب. وفي إسناده مقال وهلال بن عبد الله مجهول والحارث يضعف في الحديث

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص توشہ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللّٰه تک پہنچا سکے ۱؎پھر حج نہ کرے تو اس میں فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر ۲؎اور یہ اس لیے ہے کہ اللّٰه تبارک و تعالٰی فرماتا ہے کہ لوگوں پر اللّٰه کے لیے بیت اللّٰه کا حج فرض ہے جو وہاں تک کا راستہ طے کرسکے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جس کی اسناد میں کچھ گفتگو ہے،ہلال ابن عبداللّٰه مجہول آدمی ہے اور حارث حدیث میں ضعیف مانا جاتا ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎زادسے مراد بقدر ضرورت اپنا اور اپنے بچوں کا خرچ ہے یعنی اپنا تو سفر کا خرچ اور اپنے لوٹنے تک بچوں کا گھر کا خرچ،یہ مصارف مکہ معظمہ سے قریب و بعد اور زمانہ کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اس کا تقرر نہیں ہوسکتا اور سواری سے مراد ہر قسم کی ضروری سواری ہے جیسے آج کل ریل،جہاز، موٹر کار کا خرچ۔ملکیت سے مراد سواری کے نفعے کی ملکیت کی ہے لہذا جو سواری کے کرایہ پر قادر ہو اس پر حج فرض ہے۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔سواری میں جانے آنے کا خرچ مرادہے نہ کہ صرف جانے کا۔
۲
؎یعنی اس تارک حج کی موت اور یہودی و عیسائی کی موت میں فرق نہیں کہ اللّٰه تعالٰی نہ اس سے راضی ہوگا نہ ان سے اگرچہ دونوں پر ناراضگیوں میں فرق ہےیا یہ مطلب ہے کہ اگر یہ شخص حج کا منکر ہو کر مرا تو اس میں اور اہلِ کتاب میں کفر میں فرق نہیں اور اگر حج کا تارک ہو کر مرا تو کفران یعنی ناشکری میں فرق نہیں۔بہرحال اس کلام میں انتہائی غضب کا اظہار ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حج نہ کرنا کفر ہے۔
۳
؎اس آیت کے آخر میں"وَ مَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ"حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پوری آیت کریمہ تلاوت فرمائی ہوگی کہ محل استدلال آخر میں ہے مگر راوی نے صر ف اس قدر تلاوت کی۔
۴
؎یعنی اس حدیث کا ایک راوی تو مجہول ہے جس کے حالات کا پتہ نہیں اور دوسرا ضعیف ہے۔ مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث مرفوع بہت اسنادوں سے مروی ہے،اس کی روایت ابوامامہ سے بھی ہے اور اسے ابن عدی نے ابوہریرہ سے بھی روایت کیا اور جب ضعیف حدیث مختلف اسنادوں سے مروی ہوجائے تو اس میں قوت آجاتی ہے اور حضرت عمر پر موقوف صحیح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2521