Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2527

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الْحَاجُّ؟ قَالَ: "الشَّعِثُ التَّفِلُ"، فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْعَجُّ وَالثَّجُّ» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: «زَادٌ وَ رَاحِلَةٌ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ. وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ فِي سُنَنِهٖ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَذْكُرِ الْفَصْلَ الأَخِيرَ.

وعنه قال: سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما الحاج؟ قال: "الشعث التفل"، فقام آخر فقال: يا رسول الله أي الحج أفضل؟ قال: «العج والثج» . فقام آخر فقال: يا رسول الله ما السبيل؟ قال: «زاد و راحلة» رواه في شرح السنة. وروى ابن ماجه في سننه إلا أنه لم يذكر الفصل الأخير.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھاعرض کیا حاجی کون ہے فرمایا میلا بُو والا ۱؎پھر دوسراکھڑا ہوا عرض کیا یارسولاللّٰہصلی اللّٰہ علیہ و سلم کون سا حج افضل ہے ۲؎فرمایا خون بہانا شور مچانا ۳؎پھر دوسرا اٹھا عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سبیل کیا چیز ہے ۴؎فرمایا توشہ اور سواری ۵؎اسے شرح سنہ میں روایت کیا اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں مگر انہوں نے آخری چیز بیان نہ کی۔

شرح حدیث

۱∞؎سوال یہ تھا کہ کامل حاجی کون ہے؟ فرمایا جس پر دو علامتیں ہوں پراگندگی بال سر میلا کیونکہ بحالت احرام بال ٹوٹنے کے اندیشہ سے سر کم دھوتے ہیں اور بو والا کیونکہ بحالت احرام خوشبو لگانا منع ہے اور بسا اوقات پسینہ اور لوگوں کے اژدہام سے کچھ بُو سی محسوس ہونے لگتی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ حاجی بحالت حج دنیاوی تکلفات سے ایک دم کنارہ کش ہوجاتا ہے۔
۲
؎یعنی ارکان حج کے بعد کون سا عمل حج میں بہتر ہے،زیادہ کون سی صفات ہیں جن سے حج افضل ہوجاتاہے،ارکان تو سب ہی ادا کرتے ہیں۔شعر
حاجی تو سارے کہلاویں حج کرے کوئی ایک
ہزاروں میں تو ہے نہیں لاکھوں میں جا دیکھ
۳
؎یعنی احرام باندھتے ہی بلند آواز سے تلبیہ کہتے رہنا اور دسویں ذوالحجہ کو قربانی دینا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے سارے اعمال حج مراد ہیں کیونکہ شور مچانا،تلبیہ کہنا اول عمل ہے اور قربانی آخر عمل،درمیان کے اعمال ان میں خود ہی آگئے یعنی تلبیہ سے قربانی تک سارے عمل افضل ہیں۔
۴
؎یعنی رب تعالٰی نے جو فرمایا:"وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا"کہ بیت اللّٰه کا حج اس پر فرض ہے جو وہاں تک راستہ کی طاقت رکھتا ہو،راستہ سے کیا مراد ہے۔
۵
؎بعض اماموں نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ فرضیت حج کے لیے صحت و تندرستی ضروری نہیں اگر مدقوق مریض یا بہت بوڑھے کے پاس مال آیا جو سواری پر بیٹھتا تو کیا حرکت بھی نہیں کرسکتا اس پر بھی حج فرض ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تندرستی کا ذکر نہ فرمایا مگر یہ استدلال کچھ ضعیف ساہے اس لیے کہ یہاں تو راستہ کے امن کا بھی ذکر نہیں حالانکہ اگر امن نہ ہو تو بالاتفاق حج فرض نہیں،اگرکہا جائے کہ سواری میں راستہ کا امن بھی داخل ہے تو جواب یہ ہے کہ سواری میں اس پر بیٹھ سکنے کی طاقت بھی داخل ہے لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں،ہاں جو پہلے سے مالدار تھا مگر حج نہ کیا پھر بیمار یا بہت بوڑھا ہوگیا تو اس پر حج فرض ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2527