Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2515

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تسافر امرأة مسيرة يوم وليلة إلا ومعها ذو محرم» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی عور ت ایک دن و رات کا سفر اس کے بغیر نہ کرے ۱؎کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس ممانعت کے حکم سے مہاجرہ اور کفار کی قید سے چھوٹنے والی عورت خارج ہے کہ یہ دونوں عورتیں بغیر محرم اکیلی ہی دارالسلام کی طرف سفر کرسکتی ہیں بلکہ یہ سفر ان پر واجب ہے،اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ عورت اکیلی بصرہ سے بیت اللّٰه آئے گی اور بجز رب تعالٰی کے کسی سے خوف نہ کرے گی۔(بخاری)لہذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے مخالف ہے نہ حکم فقہاء اس حدیث کے خلاف۔(مرقات وغیرہ)
۲
؎محرم کے معنی پہلے بیان کیے گئے کہ جس عورت سے نسبتی و رضاعی رشتہ کی بنا پر نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو لہذا بہنوئی کے ساتھ سالی ،دیور کے ساتھ بھاوج،یوں ہی بالشبہ موطوہ کی ماں اس داماد کے ساتھ سفر نہیں کرسکتی کہ دیور اور بہنوئی سے نکاح دائمًا حرام نہیں اور بالشبہ موطوہ کی ماں سے اگرچہ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے مگر وہ محرم نہیں ان سے پردہ فرض ہے۔خیال رہے کہ یہاں تو ایک دن رات کا ذکر ہوا اور بعض ر وایات میں دو دن دو رات کا ذکر ہے،بعض میں تین دن تین رات کا ذکر ہے۔معلوم ہوا کہ ان احادیث میں حد بندی مقصود نہیں ۔مطلب یہ ہے کہ چھوٹا بڑا کوئی سفر اکیلے نہ کرے یا یہ احکام مختلف حالات میں ہیں،نازک حالات میں ایک دن رات کا سفر بھی اکیلے نہ کرے،بعض نارمل(normal) حالات میں تین دن سے کم کا سفر اکیلے کرسکتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2515