Main Icon

باب:ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2528

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهٗ أَتٰى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

وعن أبي رزين العقيلي أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إن أبي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن قال: حج عن أبيك واعتمر . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے کہ وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج و عمرہ کی طاقت رکھتے ہیں نہ سوار ہونے کی ۱؎فرمایا اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرو ۲؎(ترمذی،ابو داؤد،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میرے والد زیادہ بوڑھے ہونے کی وجہ سے نہ تو حج و عمرہ کے ارکان ادا کرسکتے ہیں طواف سعی وغیرہ اور نہ سواری پر بیٹھ سکتے ہیں جو مکہ معظمہ تک پہنچائے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ غالبًا ان کے والد پر پہلے سے حج فرض تھا کسی مجبوری کی وجہ سے حج نہ کیا تھا ورنہ ایسے بوڑھے پر اگر اس کمزوری میں مال آئے تو حج فرض نہیں۔
۲
؎یا تو ان کی طرف سے حج و عمرہ خود کردو یا کسی سے کرادو۔خیال رہے کہ حج بدنی و مالی عبادت کا مجموعہ ہے لہذا بوقت مجبوری دوسرا اس کی طرف سے کرسکتا ہے یعنی حج بدل مگر قدرت ہوتے ہوئے خود ہی کرنا ہوگا،محض بدنی عبادات میں نیابت مطلقًا ناجائز ہے اورمحض مالی عبادت میں مطلقًا جائز لہذا کوئی کسی کی طرف سے نماز روزہ کبھی ادا نہیں کرسکتا اور زکوۃ قربانی بہرحال ادا کرسکتا ہے اس کی اجازت سے۔خیال رہے کہ عمرہ فرض یا واجب نہیں سنت ہے لہذا حدیث میں دونوں کا حکم دینا استحبابًا ہے، یعنی بہتر یہ ہے کہ دونوں ہی باپ کی طرف سے ادا کرو،آیت کریمہ"وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ"میں عمرہ شروع کردینے کے بعد اس کے پورا کردینے کا حکم ہے یعنی جب حج و عمرہ شروع کر دیا تو انہیں ضرور پورا کروکیونکہ ہر نفل شروع کردینے سے فرض ہوجاتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2528