Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6149

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَأْخُذُهٗ وَالْحَسَنَ فَيَقُولُ: «اللّٰهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحبُّهما»وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلٰى فَخِذِهٖ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلٰى فَخِذِهِ الْأُخْرٰى ثُمَّ يَضُمُّهُمَا ثُمَّ يَقُولُ: «اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يأخذه والحسن فيقول: «اللهم أحبهما فإني أحبهما»وفي رواية: قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأخذني فيقعدني على فخذه ويقعد الحسن بن علي على فخذه الأخرى ثم يضمهما ثم يقول: «اللهم ارحمهما فإني أرحمهما» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے ۱∞؎وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہے کہ حضور انہیں اور جناب حسن کو پکڑتے تھے عرض کرتے تھے الٰہی میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مجھے پکڑتے اور مجھے اپنی ران پر بٹھاتے تھے اور حسن ابن علی کو اپنی دوسری ران پر بٹھالیتے تھے پھر ان دونوں کو لپٹاتے تھے ۳؎پھر فرماتے الٰہی ان دونوں پر رحم فرما کہ میں ان پر رحم کرتا ہوں ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اسامہ ابن زید ابن حارثہ خزاعی ہیں،آپ کی والدہ کا نام برکت ہے،کنیت ام ایمن جو حضور صلی الله علیہ و سلم کے والد عبدالله کی آزاد کردہ لونڈی ہیں اور حضور صلی الله علیہ و سلم کی پرورش کرنے والیوں میں سے،اسامہ ابن زید حضور صلی الله علیہ و سلم کے محبوب ترین ہیں،حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات کے وقت اسامہ صرف دس سال کے تھے ۵۴؁ ∞چون میں وفات ہوئی۔
۲
؎یہ حضرت اسامہ کی انتہائی عظمت ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی دعا میں انہیں حضرت حسن کے ساتھ ملایا اس لیے صاحب مشکوۃ یہ حدیث اہل بیت کے بیان میں لائے تاکہ معلوم ہو کہ اسامہ ابن زید بھی اہل بیت اطہار سے ہیں یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم کے گھر میں رہنے سہنے آنے جانے والے۔اس محبت سے مراد ہے کوئی خصوصی محبت جو حضور صلی الله علیہ و سلم کی محبت پر مبنی ہے ورنہ الله تعالٰی کو ہر مسلمان مؤمن سے محبت ہے،محبت بالمؤمنین،بالصالحین،بالاولیاء،بالانبیاء،بالمصطفی اور بمحبوبین المصطفی ان سب محبتوں میں بڑا فرق ہے۔
۳
؎یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم ان دونوں صاحبوں کو اپنی الگ الگ رانوں پر بٹھال کر ان دونوں کو اپنے سینے سے لگالیتے تھے گویا تین سینے ایک جگہ ہوجاتے تھے سینہ محمد حسن مجتبیٰ اور سینہ اسامہ ابن زید۔خیال رہے کہ سارے قرآن مجید میں سواء زید ابن حارثہ کے کسی صحابی یا اہل بیت کا نام نہیں آیا"فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْھَا وَطَرًا"اور سواء مریم کے کسی عورت کا نام نہ آیا سواء رمضان کے کسی مہینے کا نام نہ آیا۔
۴
؎یعنی میں ان دونوں پر خصوصی رحمت کرتا ہوں تو بھی ان پر خاص ہی رحمت کر ورنہ حضور کی عمومی رحمت سارے عالم پر ہے "وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ"۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6149