Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6144

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ:رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى المِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلٰى جَنْبِهٖ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرٰى وَيَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هٰذَاسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهٖ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي بكرة قال:رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر والحسن بن علي إلى جنبه وهو يقبل على الناس مرة وعليه أخرى ويقول: «إن ابني هذاسيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو منبر پر دیکھا کہ حسن ابن علی آپ کی ایک کروٹ پر تھے آپ کبھی لوگوں پر توجہ فرماتے اور کبھی ان پر اور فرماتے تھے ۲؎کہ میرا یہ بیٹا سید ہے۳؎شاید کہ الله تعالٰی اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرادے ۴؎(بخاری )۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام نقیع ابن حارث ہے،ثقفی ہیں،آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔
۲
؎یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم کبھی لوگوں کی طرف توجہ فرماتے ہیں وعظ کے لیے کبھی امام حسن کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں پیار و الفت سے۔
۳
؎سیدبمعنی سردار۔رب تعالٰی حضرت یحیی علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے:"سَیِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِیًّامِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ"۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو آج ہمارے ہاں سید کہتے ہیں وہ یہاں سے لیا گیا ہے۔سیداصل میںسیودتھا واؤیہوکریمیں مدغم ہوگئی،بعض نے فرمایا کہسیدوہ جس کا غصہ اس کی عقل پر غالب نہ ہو،بعض نے فرمایا کہسیدوہ جو خیروبرکات میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔حضرت حسن نسب،حسب،علم و عمل،سیادۃ میں دوسروں سے اونچے ہیں۔(مرقات)
۴
؎اس فرمان عالی میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو حضرت علی کی شہادت کے بعد اور امام حسن کی خلافت کے زمانہ میں پیش آیا کہ آپ کے ہاتھ پر چالیس ہزار آدمیوں نے موت پر بیعت کرلی تھی،قلت اور ڈر سے آپ پاک تھے، امیر معاویہ سے جنگ کی تیاری تھی کہ آپ نے امیر معاویہ کے حق میں سلطنت سے دست برداری کرلی،آپ کے بعض ساتھیوں پر یہ بات بہت گراں گزری حتی کہ کسی نے آپ سے کہا اے مسلمانوں کی عار،آپ نے فرمایا کہ عار نار سے بہتر ہے صرف اس خیال سے آپ نے یہ کام کیا کہ نانا جان کی امت میں قتل و خون نہ ہو۔ان دونوں جماعتوں کو مسلمان فرمانے میں یہ بتایا گیا کہ امیر معاویہ اور امام حسن رضی الله عنہما دونوں اور ان دونوں کی جماعتیں مسلمان ہوں گی،بغاوت اسلام سے نہیں نکال دیتی اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ باغی کی گواہی قبول ہے باغی کی طرف سے قضا قبول کرنا جائز ہے،ان کے قاضی کے فیصلے نافذ ہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ الله تعالٰی نے حضور کو علم غیب بخشا کہ حضور نے آنے والے واقعہ کی خبر اس وضاحت سے دی،یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور انور اس صلح سے راضی اور خوش ہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ امام حسن کی یہ دست برداری صحیح ہے جب دست برداری درست ہے تو امیر معاویہ کی سلطنت بھی درست ہے۔مذہب اہل سنت یہ ہے کہ اولًا امیر معاویہ باغی تھے،امام حسن کی اس دست برداری کے بعد آپ پہلے سلطان المسلمین ہوئے،خلافت راشدہ امام حسن پر ختم ہوگئی۔حضور کے متعلق توریت و انجیل میں خبر دی گئی تھی کہ ان کا ملک شام میں ہوگا،یہ وہ ہی ملک ہے ملک شام جہاں امیر معاویہ سلطان ہیں۔سلف صالحین فرماتے ہیں کہ الله نے ہمارے ہاتھ ان کے خون سے متلوث نہیں کیے تو اپنی زبانیں لعن سے ملوث نہ ہونے دیں۔امیر معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ حضرت حسن کے لب اور زبان چوستے ہیں جو لب و زبان حضور نے چوسے ہوں اس سے دوزخ کی آگ بہت دور رہے گی۔(احمد،مرقات)
۵
؎اس صلح کے وقت واقعہ یہ ہوا کہ امیر معاویہ نے امام حسن کے پاس سادہ کاغذ بھیجا اور فرمایا کہ آپ جو شرائط صلح چاہیں لکھ دیں مجھے منظور ہے،امام حسن نے لکھا کہ اتنا روپیہ سالانہ بطور وظیفہ ہم کو دیا جایا کرے اور آپ کے بعد پھر خلیفہ ہم ہوں گے، آپ نے کہا مجھے منظور ہے۔چنانچہ آپ سالانہ وظیفہ دیتے رہے اس کے علاوہ اکثر عطیہ نذرانے پیش کرتے رہتے تھے،ایک بار فرمایا کہ آج میں آپ کو وہ نذرانہ دیتا ہوں جو کبھی کسی نے کسی کو نہ دیا ہو۔چنانچہ آپ نےاربعۃ مائۃ الف الفنذرانہ کیے یعنی چالیس کروڑ روپیہ۔(مرقات)جب امام حسن امیر معاویہ کے پاس آتے تو امیر معاویہ انہیں اپنی جگہ بٹھاتے خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے،کسی نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ امام حسن ہم شکل مصطفی ہیں صلی الله علیہ وسلم اس مشابہت کا احترام کرتا ہوں۔ان امور کی پوری تحقیق ہماری کتاب امیر معاویہ میں ملاحظہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6144