- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6144
باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6144
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ:رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى المِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلٰى جَنْبِهٖ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرٰى وَيَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هٰذَاسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهٖ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن أبي بكرة قال:رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر والحسن بن علي إلى جنبه وهو يقبل على الناس مرة وعليه أخرى ويقول: «إن ابني هذاسيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين» . رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو منبر پر دیکھا کہ حسن ابن علی آپ کی ایک کروٹ پر تھے آپ کبھی لوگوں پر توجہ فرماتے اور کبھی ان پر اور فرماتے تھے ۲؎کہ میرا یہ بیٹا سید ہے۳؎شاید کہ الله تعالٰی اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرادے ۴؎(بخاری )۵؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام نقیع ابن حارث ہے،ثقفی ہیں،آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔
۲؎یعنی حضور صلی الله علیہ و سلم کبھی لوگوں کی طرف توجہ فرماتے ہیں وعظ کے لیے کبھی امام حسن کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں پیار و الفت سے۔
۳؎سیدبمعنی سردار۔رب تعالٰی حضرت یحیی علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے:"سَیِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِیًّامِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ"۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو آج ہمارے ہاں سید کہتے ہیں وہ یہاں سے لیا گیا ہے۔سیداصل میںسیودتھا واؤیہوکریمیں مدغم ہوگئی،بعض نے فرمایا کہسیدوہ جس کا غصہ اس کی عقل پر غالب نہ ہو،بعض نے فرمایا کہسیدوہ جو خیروبرکات میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔حضرت حسن نسب،حسب،علم و عمل،سیادۃ میں دوسروں سے اونچے ہیں۔(مرقات)
۴؎اس فرمان عالی میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو حضرت علی کی شہادت کے بعد اور امام حسن کی خلافت کے زمانہ میں پیش آیا کہ آپ کے ہاتھ پر چالیس ہزار آدمیوں نے موت پر بیعت کرلی تھی،قلت اور ڈر سے آپ پاک تھے، امیر معاویہ سے جنگ کی تیاری تھی کہ آپ نے امیر معاویہ کے حق میں سلطنت سے دست برداری کرلی،آپ کے بعض ساتھیوں پر یہ بات بہت گراں گزری حتی کہ کسی نے آپ سے کہا اے مسلمانوں کی عار،آپ نے فرمایا کہ عار نار سے بہتر ہے صرف اس خیال سے آپ نے یہ کام کیا کہ نانا جان کی امت میں قتل و خون نہ ہو۔ان دونوں جماعتوں کو مسلمان فرمانے میں یہ بتایا گیا کہ امیر معاویہ اور امام حسن رضی الله عنہما دونوں اور ان دونوں کی جماعتیں مسلمان ہوں گی،بغاوت اسلام سے نہیں نکال دیتی اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ باغی کی گواہی قبول ہے باغی کی طرف سے قضا قبول کرنا جائز ہے،ان کے قاضی کے فیصلے نافذ ہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ الله تعالٰی نے حضور کو علم غیب بخشا کہ حضور نے آنے والے واقعہ کی خبر اس وضاحت سے دی،یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور انور اس صلح سے راضی اور خوش ہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ امام حسن کی یہ دست برداری صحیح ہے جب دست برداری درست ہے تو امیر معاویہ کی سلطنت بھی درست ہے۔مذہب اہل سنت یہ ہے کہ اولًا امیر معاویہ باغی تھے،امام حسن کی اس دست برداری کے بعد آپ پہلے سلطان المسلمین ہوئے،خلافت راشدہ امام حسن پر ختم ہوگئی۔حضور کے متعلق توریت و انجیل میں خبر دی گئی تھی کہ ان کا ملک شام میں ہوگا،یہ وہ ہی ملک ہے ملک شام جہاں امیر معاویہ سلطان ہیں۔سلف صالحین فرماتے ہیں کہ الله نے ہمارے ہاتھ ان کے خون سے متلوث نہیں کیے تو اپنی زبانیں لعن سے ملوث نہ ہونے دیں۔امیر معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ حضرت حسن کے لب اور زبان چوستے ہیں جو لب و زبان حضور نے چوسے ہوں اس سے دوزخ کی آگ بہت دور رہے گی۔(احمد،مرقات)
۵؎اس صلح کے وقت واقعہ یہ ہوا کہ امیر معاویہ نے امام حسن کے پاس سادہ کاغذ بھیجا اور فرمایا کہ آپ جو شرائط صلح چاہیں لکھ دیں مجھے منظور ہے،امام حسن نے لکھا کہ اتنا روپیہ سالانہ بطور وظیفہ ہم کو دیا جایا کرے اور آپ کے بعد پھر خلیفہ ہم ہوں گے، آپ نے کہا مجھے منظور ہے۔چنانچہ آپ سالانہ وظیفہ دیتے رہے اس کے علاوہ اکثر عطیہ نذرانے پیش کرتے رہتے تھے،ایک بار فرمایا کہ آج میں آپ کو وہ نذرانہ دیتا ہوں جو کبھی کسی نے کسی کو نہ دیا ہو۔چنانچہ آپ نےاربعۃ مائۃ الف الفنذرانہ کیے یعنی چالیس کروڑ روپیہ۔(مرقات)جب امام حسن امیر معاویہ کے پاس آتے تو امیر معاویہ انہیں اپنی جگہ بٹھاتے خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے،کسی نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ امام حسن ہم شکل مصطفی ہیں صلی الله علیہ وسلم اس مشابہت کا احترام کرتا ہوں۔ان امور کی پوری تحقیق ہماری کتاب امیر معاویہ میں ملاحظہ کرو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6144