Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6183

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ أَنَّهٗ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن أبي ذر أنه قال وهو آخذ بباب الكعبة: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ألا إن مثل أهل بيتي فيكم مثل سفينة نوح من ركبها نجا ومن تخلف عنها هلك . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ذر سے ۱∞؎کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑےہوئے فرمایا۲؎کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آگاہ رہو کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال جناب نوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا ہلاک ہوگیا۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام جندب ابن جنادہ غفاری ہے،آپ اسلام سے پہلے ہی بڑے زاہد تھے،آپ چھٹے مسلمان ہیں،مکہ معظمہ آکر ایمان لائے،پھر حضور کے حکم سے اپنے وطن چلے گئے،پھر بعد غزوہ خندق مدینہ منورہ میں آئے،پھر خلافت عثمانیہ میں مقام ربذہ میں رہے، وہاں ہی ۳۲ھ؁ ∞ میں وفات پائی۔(مرقات)
۲
؎دروازہ کعبہ اس لیے پکڑا تاکہ اس حدیث کی اہمیت سننے والوں کو معلوم ہو جاوے۔
۳
؎یعنی جیسے طوفان نوحی کے وقت ذریعہ نجات صرف کشتی نوح علیہ السلام تھی ایسے ہی تاقیامت ذریعہ نجات صرف محبت اہل بیت اور ان کی اطاعت ان کی اتباع ہے،بغیر اطاعت و اتباع دعویٰ محبت بے کار ہے۔دوسری حدیث میں ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے،گویا دنیا سمندر ہے اس سفر میں جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں کی ضرورت ہے۔الحمد ﷲ!اہل سنت کا بیڑا پار ہے کہ یہ اہلِ بیت اور صحابہ دونوں کے قدم سے وابستہ ہیں۔خوارج کے پاس کشتی نہیں روافض کی نظر ان تاروں پر نہیں یہ دونوں اس سمندر سے پار نہیں لگ سکتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6183