- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6180
باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6180
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: إِنَّهٗ شَدِيدٌ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتِ خَيْرًا تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ غُلَامًا يَكُونُ فِي حِجْرِكِ . فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلْتُ يَوْمًا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهٗ فِي حِجْرِهٖ ثُمَّ كَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا عَيْنَا رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهْرِيقَانِ الدُّمُوعَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّيْ مَالَكَ؟ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هٰذَافَقُلْتُ: هٰذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَآءَ "
وعن أم الفضل بنت الحارث أنها دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله إني رأيت حلما منكرا الليلة. قال: وما هو؟ قالت: إنه شديد قال: وما هو؟ قالت: رأيت كأن قطعة من جسدك قطعت ووضعت في حجري. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأيت خيرا تلد فاطمة إن شاء الله غلاما يكون في حجرك . فولدت فاطمة الحسين فكان في حجري كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم. فدخلت يوما على رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعته في حجره ثم كانت مني التفاتة فإذا عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم تهريقان الدموع قالت: فقلت: يا نبي الله بأبي أنت وأمي مالك؟ قال: " أتاني جبريل عليه السلام فأخبرني أن أمتي ستقتل ابني هذافقلت: هذا ؟ قال: نعم وأتاني بتربة من تربته حمراء "
حدیث ترجمہ
روایت ہے ام الفضل بنت حارث سے ۱∞؎کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں بولیں یارسول الله میں نے آج رات ایک خطرناک خواب دیکھا ہے ۲؎فرمایا کیا ہے،بولیں حضور بہت خطرناک ہے فرمایا وہ کیا ہے،بولیں میں نے دیکھا جیسے کہ آپ کے جسم کا ٹکڑا کٹا اور میری گود میں رکھا گیا۳؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے اچھی خواب دیکھی ہےان شاء اللهفاطمہ لڑکا جنے گی وہ بچہ تمہاری گود میں رہے گا ۴؎چنانچہ جناب فاطمہ نے حضرت حسین کو جنم دیا وہ میری گود میں رہے جیسے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا۵؎پھر میں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہیں آپ کی گود میں بھر دیا پھر میرا دھیان بٹ گیا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۶؎فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یانبی الله آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں یہ کیا ہے ۷؎فرمایا میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے مجھے خبر دی کہ میری امت میرے اس فرزند کو قتل کرے گی۸؎میں نے کہا اس کو فرمایا ہاں اور وہ میرے پاس وہاں کی سرخ مٹی میں سے کچھ مٹی لائے ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام لبابہ عامریہ ہے،کنیت ام الفضل،حضرت عباس کی زوجہ ہیں اور عباس کی اکثر اولاد آپ سے ہی ہے،حضرت میمونہ کی بہن ہیں،جناب خدیجہ کے بعد پہلے آپ ہی ایمان لائیں رضی الله عنہا۔(مرقات)
۲؎یہاں منکر بمعنی ممنوع یا حرام نہیں بلکہ بمعنی خطرناک ہیبت ناک ہے یعنی میں نے ایسی خواب دیکھی ہے جو میرے خیال میں بڑی ہی خطرناک اور ہیبت ناک ہے۔
۳؎حجرح کے کسرہ سے بمعنی کوکھ اور ح کے فتح سے بمعنی پرورش،آپ سمجھیں کہ حضور انور کے گوشت کا ٹکڑا میری گود میں آنا بہت ہی خطرناک ہے۔
۴؎یعنی جناب فاطمہ زہرا امید سے ہیں ان کے بیٹا ہوگا اور تم اسے اپنی گود میں کھلایا کرو گی،حضرت حسین میرے جسم بلکہ میرے قلب و جگر کا ٹکڑا ہیں اس خواب کی یہ ہی تعبیر ہے۔
۵؎معلوم ہوا کہ حضرت ام الفضل بطور خدمت جناب امام حسین کی پرورش کرتی تھیں۔مبارک ہیں امام حسین جو فاطمہ زہرا کے بطن شریف میں اور ام الفضل کی پرورش میں اور حضور صلی الله علیہ و سلم کی گود میں رہے۔
۶؎یعنی مجھے یہ پتہ نہیں لگا کہ حضور انور کے رونے کی ابتدا کیسے ہوئی کیونکہ میرا دھیان اتفاقًا بٹ تھا جب میں نے حضور کی طرف دھیان کیا تو آپ کو زاروقطار روتے پایا۔
۷؎یعنی حضور بلا سبب کیوں رو رہے ہیں۔لختِ جگر گود میں ہے یہ وقت تو خوشی کا ہے خوشی کے موقعہ پر غم کیسا۔
۸؎امتیفرماکر یہ بتایاکہ جناب امام حسین کو قتل کرنے والے کلمہ گو ہوں گے،اپنے کو مسلمان کہیں گے عیسائی یہودی یا مشرکین نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ قتل امام حسین گناہ کبیرہ تو یقینًا ہے مگر جن لوگوں نے اس فعل کو حلال سمجھ کر کیا یا حضرت امام حسین سے ذاتی عداوت کی بنا پر وہ تو کافر ہوگئے اور جنہوں نے دنیاوی لالچ میں یہ حرکت کی وہ بدترین فاسق ہیں۔قتل نبی کفر ہے،غیر نبی کا قتل مطلقًا کفر نہیں،یوں ہی جس نے حضرت امام حسن کو زہر دیا وہ بھی بدترین فاسق ہے اسے کافر نہیں کہا جاسکتا،یہ ہی حال قاتل علی اور قاتل عثمان کا ہے کہ یہ سب لوگ فاسقین ہیں جیسے یوسف علیہ السلام کے دسوں بھائی جنہوں نے انہیں ستایا کنویں میں ڈالا فروخت کیا،یعقوب علیہ السلام کو جھوٹی خبر دی وہ سب لوگ فاسق ہوئے کافر نہیں ہوئے،پھر توبہ کرنے اور ان دونوں بزرگوں سے معافی حاصل کرلینے پر ان کا فسق ختم ہواامتیفرمانے میں یہی اشارہ ہے۔جو لوگ قتل حسین کو کفر کہتے ہیں وہ قتل امام حسن،قتل علی،قتل عثمان کو کفر کیوں نہیں کہتے،یوں ہی برادران یوسف علیہ السلام کو کافر کیوں نہیں کہتے۔
۹؎یعنی حضرت جبریل امین علیہ السلام نے مجھے کربلا کی مٹی لاکر دکھائی جو خون امام حسین سے سرخ تھی۔خیال رہے کہ کربلا معلی کی مٹی سرخ نہ تھی اور نہ اب سرخ،قتل امام حسین علیہ السلام کے وقت یا تو ساری مٹی سرخ ہوگئی تھی یا خاص وہ مٹی جس پر حضرت امام حسین علیہ السلام کا خون گرا وہ ہی مٹی لا کر دکھائی۔مقبولین آئندہ کے واقعات کو دیکھ لیتے اور سن لیتے ہیں، حضور انور نے معراج کی رات جنت میں اپنے آگے حضرت بلال کے قدم کی آہٹ سنی حالانکہ یہ واقعہ بعد قیامت ہوگا کہ حضرت بلال حضور کے آگے ہٹو بچو کرتے جنت میں جائیں گے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6180