Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6180

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: إِنَّهٗ شَدِيدٌ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتِ خَيْرًا تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ غُلَامًا يَكُونُ فِي حِجْرِكِ . فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلْتُ يَوْمًا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهٗ فِي حِجْرِهٖ ثُمَّ كَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا عَيْنَا رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهْرِيقَانِ الدُّمُوعَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّيْ مَالَكَ؟ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هٰذَافَقُلْتُ: هٰذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَآءَ "

وعن أم الفضل بنت الحارث أنها دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله إني رأيت حلما منكرا الليلة. قال: وما هو؟ قالت: إنه شديد قال: وما هو؟ قالت: رأيت كأن قطعة من جسدك قطعت ووضعت في حجري. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأيت خيرا تلد فاطمة إن شاء الله غلاما يكون في حجرك . فولدت فاطمة الحسين فكان في حجري كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم. فدخلت يوما على رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعته في حجره ثم كانت مني التفاتة فإذا عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم تهريقان الدموع قالت: فقلت: يا نبي الله بأبي أنت وأمي مالك؟ قال: " أتاني جبريل عليه السلام فأخبرني أن أمتي ستقتل ابني هذافقلت: هذا ؟ قال: نعم وأتاني بتربة من تربته حمراء "

حدیث ترجمہ

روایت ہے ام الفضل بنت حارث سے ۱∞؎کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں بولیں یارسول الله میں نے آج رات ایک خطرناک خواب دیکھا ہے ۲؎فرمایا کیا ہے،بولیں حضور بہت خطرناک ہے فرمایا وہ کیا ہے،بولیں میں نے دیکھا جیسے کہ آپ کے جسم کا ٹکڑا کٹا اور میری گود میں رکھا گیا۳؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے اچھی خواب دیکھی ہےان شاء اللهفاطمہ لڑکا جنے گی وہ بچہ تمہاری گود میں رہے گا ۴؎چنانچہ جناب فاطمہ نے حضرت حسین کو جنم دیا وہ میری گود میں رہے جیسے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا۵؎پھر میں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہیں آپ کی گود میں بھر دیا پھر میرا دھیان بٹ گیا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۶؎فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یانبی الله آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں یہ کیا ہے ۷؎فرمایا میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے مجھے خبر دی کہ میری امت میرے اس فرزند کو قتل کرے گی۸؎میں نے کہا اس کو فرمایا ہاں اور وہ میرے پاس وہاں کی سرخ مٹی میں سے کچھ مٹی لائے ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام لبابہ عامریہ ہے،کنیت ام الفضل،حضرت عباس کی زوجہ ہیں اور عباس کی اکثر اولاد آپ سے ہی ہے،حضرت میمونہ کی بہن ہیں،جناب خدیجہ کے بعد پہلے آپ ہی ایمان لائیں رضی الله عنہا۔(مرقات)
۲
؎یہاں منکر بمعنی ممنوع یا حرام نہیں بلکہ بمعنی خطرناک ہیبت ناک ہے یعنی میں نے ایسی خواب دیکھی ہے جو میرے خیال میں بڑی ہی خطرناک اور ہیبت ناک ہے۔
۳
؎حجرح کے کسرہ سے بمعنی کوکھ اور ح کے فتح سے بمعنی پرورش،آپ سمجھیں کہ حضور انور کے گوشت کا ٹکڑا میری گود میں آنا بہت ہی خطرناک ہے۔
۴
؎یعنی جناب فاطمہ زہرا امید سے ہیں ان کے بیٹا ہوگا اور تم اسے اپنی گود میں کھلایا کرو گی،حضرت حسین میرے جسم بلکہ میرے قلب و جگر کا ٹکڑا ہیں اس خواب کی یہ ہی تعبیر ہے۔
۵
؎معلوم ہوا کہ حضرت ام الفضل بطور خدمت جناب امام حسین کی پرورش کرتی تھیں۔مبارک ہیں امام حسین جو فاطمہ زہرا کے بطن شریف میں اور ام الفضل کی پرورش میں اور حضور صلی الله علیہ و سلم کی گود میں رہے۔
۶
؎یعنی مجھے یہ پتہ نہیں لگا کہ حضور انور کے رونے کی ابتدا کیسے ہوئی کیونکہ میرا دھیان اتفاقًا بٹ تھا جب میں نے حضور کی طرف دھیان کیا تو آپ کو زاروقطار روتے پایا۔
۷
؎یعنی حضور بلا سبب کیوں رو رہے ہیں۔لختِ جگر گود میں ہے یہ وقت تو خوشی کا ہے خوشی کے موقعہ پر غم کیسا۔
۸
؎امتیفرماکر یہ بتایاکہ جناب امام حسین کو قتل کرنے والے کلمہ گو ہوں گے،اپنے کو مسلمان کہیں گے عیسائی یہودی یا مشرکین نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ قتل امام حسین گناہ کبیرہ تو یقینًا ہے مگر جن لوگوں نے اس فعل کو حلال سمجھ کر کیا یا حضرت امام حسین سے ذاتی عداوت کی بنا پر وہ تو کافر ہوگئے اور جنہوں نے دنیاوی لالچ میں یہ حرکت کی وہ بدترین فاسق ہیں۔قتل نبی کفر ہے،غیر نبی کا قتل مطلقًا کفر نہیں،یوں ہی جس نے حضرت امام حسن کو زہر دیا وہ بھی بدترین فاسق ہے اسے کافر نہیں کہا جاسکتا،یہ ہی حال قاتل علی اور قاتل عثمان کا ہے کہ یہ سب لوگ فاسقین ہیں جیسے یوسف علیہ السلام کے دسوں بھائی جنہوں نے انہیں ستایا کنویں میں ڈالا فروخت کیا،یعقوب علیہ السلام کو جھوٹی خبر دی وہ سب لوگ فاسق ہوئے کافر نہیں ہوئے،پھر توبہ کرنے اور ان دونوں بزرگوں سے معافی حاصل کرلینے پر ان کا فسق ختم ہواامتیفرمانے میں یہی اشارہ ہے۔جو لوگ قتل حسین کو کفر کہتے ہیں وہ قتل امام حسن،قتل علی،قتل عثمان کو کفر کیوں نہیں کہتے،یوں ہی برادران یوسف علیہ السلام کو کافر کیوں نہیں کہتے۔
۹
؎یعنی حضرت جبریل امین علیہ السلام نے مجھے کربلا کی مٹی لاکر دکھائی جو خون امام حسین سے سرخ تھی۔خیال رہے کہ کربلا معلی کی مٹی سرخ نہ تھی اور نہ اب سرخ،قتل امام حسین علیہ السلام کے وقت یا تو ساری مٹی سرخ ہوگئی تھی یا خاص وہ مٹی جس پر حضرت امام حسین علیہ السلام کا خون گرا وہ ہی مٹی لا کر دکھائی۔مقبولین آئندہ کے واقعات کو دیکھ لیتے اور سن لیتے ہیں، حضور انور نے معراج کی رات جنت میں اپنے آگے حضرت بلال کے قدم کی آہٹ سنی حالانکہ یہ واقعہ بعد قیامت ہوگا کہ حضرت بلال حضور کے آگے ہٹو بچو کرتے جنت میں جائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6180