Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6174

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا.قَالَ:«هُوَ ذَا فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ» قَالَ زَيْدٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَاللّٰهِ لَا أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا. قَالَ: فَرَأَيْتُ رَأْيَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن جبلة بن حارثة قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله ابعث معي أخي زيدا.قال:«هو ذا فإن انطلق معك لم أمنعه» قال زيد: يا رسول الله والله لا أختار عليك أحدا. قال: فرأيت رأي أخي أفضل من رأيي. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جبلہ ابن حارثہ سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا یارسول الله میرے ساتھ میرے بھائی زید کو بھیج دیں ۱∞؎فرمایا وہ یہ ہیں اگر وہ تمہارے ساتھ جائیں تو میں انہیں منع نہ کروں گا۲؎جناب زید نے کہا یارسول الله الله کی قسم میں آپ پرکسی کو ترجیح نہ دوں گا۳؎فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کی رائے اپنی رائے سے بہتر دیکھی ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت زید کا پورا واقعہ پہلے مذکور ہوچکا ہے کہ آپ آٹھ سال کی عمر میں دشمنوں کے ہاتھ قید ہوگئے تھے،بازار میں فروخت کردیئے گئے،حکیم ابن حزام نے آپ کو خریدا اور اپنی پھوپھی خدیجۃ الکبریٰ کو ہدیۃً دے دیا،جب حضرت خدیجۃ الکبریٰ حضور کے نکاح میں آئیں تو آپ نے حضرت زید کو حضور کی خدمت کے لیے مقرر فرمادیا،حضور نے انہیں اپنا بیٹا بنالیا،آپ کے بڑے بھائی جبلہ ابن حارثہ کو پتہ لگا کہ زید ابن حارثہ حضور انور کے پاس ہیں تو وہ انہیں لینے آئے تب یہ عرض کیا۔خیال رہے کہ حضرت زید غزوہ موتہ میں حضرت جعفر کے ساتھ شہید ہوئے،پچپن سال عمر ہوئی حضور نے انہیں حضرت جعفر کا بھائی بنا دیا تھا۔(اشعہ)
۲
؎یعنی اگر یہ اپنے گھر جانا چاہیں تو لے جاؤ میں انہیں منع نہیں کروں گا۔
۳
؎یعنی آپ پر میرے ماں باپ بھائی برادر فدا ہوں میں آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں ماں باپ کے پاس جانا نہیں چاہتا، مجھے اپنے در سے دور نہ کریں آپ کی خدمت دین و دنیا کی ساری نعمتوں سے افضل ہے۔
۴
؎یعنی میں نے انہیں حضور کے فراق کا مشورہ دیا انہوں نے وصال چاہا وہ مجھ سے بہتر رائے والے تھے انہوں نے حضور کو اختیار کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6174