Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6167

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟قَالَ:«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ» وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: «ادْعِي لِي ابْنَيَّ» فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أنس قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي أهل بيتك أحب إليك؟قال:«الحسن والحسين» وكان يقول لفاطمة: «ادعي لي ابني» فيشمهما ويضمهما إليه.رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ اہل بیت میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے فرمایا حسن اورحسین ۱∞؎اور حضور فاطمہ سے فرماتے تھے کہ میرے پاس میرے بچوں کو بلاؤ پھر انہیں سونگھتے تھے اور اپنے سے لپٹاتے تھے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح پہلے کی جاچکی ہے کہ محبت کی بہت قسمیں ہیں: اولاد سے محبت اور قسم کی ہے،ازواج سے اور قسم کی، دوستوں سے اور قسم کی۔اولاد میں حضرات حسنین بہت پیارے ہیں،ازواج میں حضرت عائشہ صدیقہ محبوبہ محبوب رب العالمین ہیں، دوست و احباب میں حضرت ابوبکر صدیق بہت پیارےہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۲
؎حضور انہیں کیوں نہ سونگھتے وہ دونوں تو حضور کے پھول تھے پھول سونگھے ہی جاتے ہیں،انہیں کلیجے سے لگانا لپٹانا انتہائی محبت و پیار کے لیے تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو سونگھنا،ان سے پیارکرنا،انہیں لپٹانا چمٹانا سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہے۔
۳
؎ذخائر میں ہے کہ یہ حدیث دوسری روایت میں حسن بھی ہے صحیح بھی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6167