Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6155

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَمِيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلٰى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: فَاطِمَةُ. فَقِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن جميع بن عمير قال: دخلت مع عمتي على عائشة فسألت: أي الناس كان أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: فاطمة. فقيل: من الرجال؟ قالت: زوجها إن كان ما علمت صواما قواما. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے جمیع ابن عمیر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے پوچھا کون شخص نبی صلی الله علیہ و سلم کو بہت پیارا تھا۲؎آپ نے فرمایا فاطمہ پھر کہا گیا کہ مردوں میں فرمایا ان کے خاوند۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ تابعی ہے،کوفہ کے باشندے ہیں،کہا جاتا ہے کہ خفیہ شیعہ تھا۔والله اعلم!(اشعہ)
۲
؎ان پھوپھی صاحبہ کا نام معلوم نہ ہوسکا یہ سوال یا تو خود جمیع نے کہا یا ان کی پھوپھی نے۔سألتیا تو متکلم ہے یا واحد غائب۔(مرقات)
۳
؎یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ کی حق گوئی کہ آپ نے یہ نہ فرمایا کہ حضور کو سب سے زیادہ پیاری میں تھی اور میرے بعد میرے والد بلکہ جو آپ کے علم میں حق تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اگر یہ ہی سوال حضرت فاطمہ زہرا سے ہوتا تو آپ فرماتیں کہ حضور کو زیادہ پیاری جناب عائشہ تھیں پھر ان کے والد۔معلوم ہوا کہ انکے دل بالکل پاک و صاف تھے۔افسوس! ان پر جو ان حضرات کو ایک دوسرے کا دشمن کہتے ہیں۔(اشعہ)خیال رہے کہ محبت بہت قسم کی ہے اور محبوبیت کی نوعیتیں مختلف ہیں۔اولاد میں سب سے زیادہ پیاری جناب فاطمہ ہیں،بھائیوں میں سب سے زیادہ پیارے علی مرتضیٰ ہیں،ازواج پاک میں بہت پیاری جناب عائشہ صدیقہ ہیں۔غرضکہ ایک محبت کے سلسلہ میں جناب فاطمہ بہت پیاری،دوسرے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ بہت پیاری رضی الله عنہما،مقابلہ ایک سلسلہ کے افراد میں ہوتا ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جس حدیث کا راوی رافضی ہو اور روایت فضائل اہل بیت کی ہو تو سمجھ لو کہ وہ حدیث موضوع ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6155