Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6145

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهٗ رَجُلٌ عَنِ الْمُحْرِمِ قَالَ شُعْبَةُ أَحْسَبُهٗ يَقْتُلُ الذُّبَابَ؟ قَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونِي عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمَا رَيْحَانَّيَّ مِنَ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن عبد الرحمن بن أبي نعم قال: سمعت عبد الله بن عمر وسأله رجل عن المحرم قال شعبة أحسبه يقتل الذباب؟ قال: أهل العراق يسألوني عن الذباب وقد قتلوا ابن بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هما ريحاني من الدنيا» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی نعم ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ میں نے جناب عبدالله ابن عمر کو سنا جب کہ آپ سے ایک شخص نے مُحرم کے متعلق پوچھا،شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے خیال ہے کہ یہ پوچھا کہ مُحرم مکھی مار سکتا ہے ۲؎تو فرمایا عراقی لوگ مجھ سے مکھی کے متعلق پوچھتے ہیں اور رسول الله کی دختر کے بیٹے کو قتل کرچکے ہیں،فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ وہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،بڑے عالم متقی درویش و صابر بندے تھے،فقروفاقہ پر قانع،ایک بار حجاج نے آپ کو تاریک جگہ بند کرکے دروازہ اینٹوں سے چن دیا پندرہ دن بعد نکالا اگر زندہ ہوں تو قتل کردو اگر وفات پاچکے ہوں تو دفن کردیا جاوے دروازہ کھولا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے آخر آپ کو آزاد کردیا۔(اشعہ)
۲
؎کسی عراقی حاجی نے آپ سے پوچھا تھا کہ بحالت احرام محرم مکھی مار سکتا ہے یا نہیں،مکھی شکار ہے یا نہیں۔
۳
؎یعنی یہ لوگ مجھ سے مکھی کے قتل کا مسئلہ پوچھتے ہیں حالانکہ کربلا میں حضرت حسین کو شہید کرکے آئے ہیں وہاں نہیں پوچھا کہ قتل حسین جائز ہے یا نہیں۔اس فرمان نبوی کا مطلب یہ ہے کہ حضرت حسن و حسین دنیا میں جنت کے پھول ہیں جو مجھے عطا ہوئے ان کے جسم سے جنت کی خوشبو آتی ہے اس لیے حضور انہیں سونگھا کرتے تھے اور حضرت علی سے فرماتے تھےالسلام علیك یااباریحانیناے دو پھولوں کے والد،اس فرمان عالی کے اور بہت معنی کیے گئے۔اعلٰی حضرت نے فرمایا ہے؎کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6145