Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6151

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنِ حَارِثَةَ مَوْلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتّٰى نَزَلَ الْقُرْآن: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَذُكرَ حَدِيثُ الْبَراءِ قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي» فِي «بَابِ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهٖ»

وعنه قال: إن زيد بن حارثة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كنا ندعوه إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن: {ادعوهم لآبائهم} (متفق عليه)وذكر حديث البراء قال لعلي: «أنت مني» في «باب بلوغ الصغير وحضانته»

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ زید ابن حارثہ یعنی رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے غلام ہم انہیں زید ابن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے ۱∞؎حتی کہ قرآن مجید نازل ہوا کہ لوگوں کو ان کے باپوں کے نام سے بلاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)حضرت براء کی حدیث کہ حضور نے علی سے فرمایاانت منیبلوغ صغیر اور پرورش کے باب میں ذکر کردی گئی۔

شرح حدیث

۱∞؎اس کی وجہ ابھی ہم بیان کرچکے کہ حضور نے حضرت زید کو اپنا بیٹا بنایا تھا اور عرب میں دستور تھا کہ اپنے منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا سمجھتے تھے،اسے میراث بھی ملتی تھی،اس کی بیوی کو اپنی بہو سمجھتے تھے اپنی طرف اس کی نسبت کرتے تھے،اس قاعدے سے لوگ حضرت زید کو زید ابن محمد کہتے تھے۔
۲
؎جب حضرت زید ابن حارثہ نے جناب زینب کو طلاق دی اور وہ حضورصلی الله علیہ و سلم کے نکاح میں آئیں تب لوگوں نے کہنا شروع کردیا حضور انور نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ان سب کی تردید میں یہ آیت اور بہت سی آیات نازل ہوئیں مثلًا"فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَھَا"کہا اور جیسے"مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ"یا جیسے"مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَکُمْ اَبْنَآءَکُمْ"وغیرہ۔اس مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ انسان کی نسبت اس کے باپ کی طرف ہونی چاہیے مگر قرآن کریم نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کو ہر جگہ عیسیٰ ابن مریم ہی فرمایا یعنی ماں کی طرف نسبت کیا اگر آپ کا کوئی باپ ہوتا تو باپ ہی کی طرف نسبت کی جاتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6151