Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6148

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهٗ وَضُوءًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: «مَنْ وَضَعَ هٰذَا ؟» فَأُخْبِرَ فَقَالَ:«اللّٰهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .

وعنه قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم دخل الخلاء فوضعت له وضوءا فلما خرج قال: «من وضع هذا ؟» فأخبر فقال:«اللهم فقهه في الدين»(متفق عليه) .

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم پاخانہ تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھا ۱∞؎تو جب آپ باہر آئے فرمایا یہ کس نے رکھا ہے حضور کو خبر
دی گئی تو فرمایا الٰہی اسے دین کا فقیہ بنادے ۲
؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور اس دن حضرت عبدالله ابن عباس کی خالہ جناب میمونہ ام المؤمنین کے گھر قیام فرماتھے تہجد کا وقت تھا حضور استنجاء خانہ میں تشریف لے گئے،حضرت ابن عباس جو اس رات وہاں ہی سوئے تھے تاکہ حضور کی رات کی زندگی شریف دیکھیں آپ اٹھے اور وضو کے لیے پانی استنجاء خانہ کے دروازے پر رکھ دیا یہ خدمت بارگاہ نبوت میں قبول ہوگئی۔
۲
؎اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ فقہ فی الدین یعنی دینی سمجھ مسائل دینیہ کا استنباط کرسکنا الله کی بڑی نعمت ہے۔حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت عبدالله ابن عباس سے خوش ہوکر انہیں یہ دعا دی،دین کا علم اور چیز ہے دین کا فقہ اور چیز ہے،رب فرماتا ہے:"وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا كَثِیۡرًا"اور فرمایا ہے"یُّؤۡتِی الْحِکْمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ"۔ان آیات میں حکمت سے مراد فقہ فی الدین ہے اسی تفقہ سے انسان کتاب و سنت کو سمجھتا ہے اسی سے الہام اور وسوسہ میں فرق کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے،حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر تیرہ سال تھی،آپ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دو بار دیکھا آخر عمر شریف میں نابینا ہوگئے، ۶۸ھ؁ ∞میں طائف میں وفات ہوئی،اکہتر سال عمر پائی،آپ بہت سے علوم کے جامع تھے رضی الله عنہ۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6148