Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6168

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللّٰهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ نَظَرْتُ إِلٰى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتّٰى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

وعن بريدة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطبنا إذ جاء الحسن والحسين عليهما قميصان أحمران يمشيان ويعثران فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم من المنبر فحملهما ووضعهما بين يديه ثم قال: صدق الله إنما أموالكم وأولادكم فتنة نظرت إلى هذين الصبيين يمشيان ويعثران فلم أصبر حتى قطعت حديثي ورفعتهما . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ہم کو خطبہ دے رہے تھے ۱∞؎اچانک حسن و حسین آئے جن پر دو سرخ قمیضیں تھیں ۲؎وہ چلتے تھے اور گرتے تھے۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم منبر سے اتر آئے ان دونوں کو اٹھالیا اور اپنے سامنے بٹھالیا۴؎پھر فرمایا سچ فرمایا الله تعالٰی نے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ۵؎میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ چلتے گرتے ہیں تو میں صبر نہ کرسکا حتی کہ میں نے اپنی بات بند کردی اور ان دونوں کو اٹھالیا ۶؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎غالب یہ ہے کہ یہ خطبہ وعظ نہ تھا بلکہ خطبہ جمعہ تھا،ان دونوں کے لیے حضور نے خطبہ جمعہ توڑا جب ان کے لیے نماز کا سجدہ دراز کیا جاسکتا ہے تو انہیں کے لیے خطبہ جمعہ بھی توڑا جاسکتا ہے۔
۲
؎یعنی ان دونوں فرزندوں کی قمیضوں میں سرخ دھاریاں تھیں خالص سرخ نہ تھیں کہ خالص سرخ کپڑا مردوں اور لڑکوں کو پہننا پہنانا ممنوع ہے۔(مرقات)
۳
؎یعنی یہ دونوں فرزند بہت چھوٹے تھے نیا نیا چلنا سیکھا تھا اس لیے برابر چل نہ سکتے تھے،چلتے گر جاتے پھر اٹھ کر چلتے گر جاتے تھے جیساکہ بہت چھوٹے بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔
۴
؎خیال رہے کہ اس موقعہ پر حضور صلی الله علیہ و سلم نے حاضرین میں سے کسی سے نہ منگایا نہ کسی اور کی گود میں بٹھایا بلکہ خود منبر شریف سے اتر کر خطبہ چھوڑ کر بچوں کے پاس گئے انہیں اٹھا کر لائے اپنے برابر بٹھایا یہ ہے حضور کی انتہائی محبت ان دونوں سے۔
۵
؎اس آیت کریمہ میں فتنہ بمعنی آفت یا مصیبت نہیں بلکہ محنت یا آزمائش ہے الله تعالٰی ان کے ذریعہ مؤمن کو ثواب دیتا ہے۔
۶
؎خیال رہے کہ حضرات حسنین کریمین کے لیے خطبہ قطع کرنا حضور کی خصوصیت ہے نہ تو ہم کو جائز ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے خطبہ جمعہ چھوڑیں یا توڑیں نہ حضرت علی و فاطمہ زہرا کو جائز تھا کہ انہیں صاحبزادوں کے لیے خطبہ یا نماز چھوڑیں، حضور نے ان دونوں کے لیے اپنا سجدہ دراز فرمایا۔حضرت امامہ بنت ابو العاص یعنی اپنی نواسی کو کندھے پر لے کر نماز پڑھی اس طرح کہ رکوع سجدہ کے وقت انہیں اتار دیا بعد میں پھر کندھے پر لے لیا اگر ہم ایسا کریں گے تو نماز ٹوٹ جائے گی اور ہم گنہگار ہوں گے اس لیے حضرت امامہ کو گود میں لے کر نہ تو ابو العاص نے نماز پڑھی نہ جناب زینب نے،احکام شرعیہ اور ہیں خصوصیات کچھ اور۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6168