Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6179

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُتِىَ عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ وَقَالَ فِي حُسْنِهٖ شَيْئًا قَالَ أَنَسٌ: فَقُلْتُ: وَاللّٰهِ إِنَّهٗ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسِمَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهٖ وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هٰذَاحُسْنًا. فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّهٗ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن أنس قال: أتى عبيد الله بن زياد برأس الحسين فجعل في طست فجعل ينكت وقال في حسنه شيئا قال أنس: فقلت: والله إنه كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم وكان مخضوبا بالوسمة. رواه البخاري وفي رواية الترمذي قال: كنت عند ابن زياد فجيء برأس الحسين فجعل يضرب بقضيب في أنفه ويقول: ما رأيت مثل هذاحسنا. فقلت: أما إنه كان من أشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال: هذاحديث صحيح حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ عبید الله ابن زیاد کے پاس حضرت حسین کا سر لایا گیا ۱∞؎تو طشت میں رکھا گیا ۲؎وہ ٹھونکنے لگا۳؎اور ان کے حسن کےمتعلق کچھ کہا۴؎حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ الله کی قسم یہ سب سے زیادہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی ہم شکل تھے۵؎اور آپ وسمہ کا خضاب لگائے ہوئے تھے۔(بخاری)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ میں ابن زیاد کے پاس تھا کہ حضرت حسین کا سر لایا گیا تو وہ آپ کی ناک میں چھڑی مارنے لگا اور کہنے لگا کہ میں نے اس جیسا حسین نہ دیکھا تو میں نے کہا کہ آپ سب سے زیادہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ہم شکل تھے۶؎اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح بھی ہے حسن بھی غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت حسین رضی الله عنہ کا سر مبارک ایک طشت میں رکھ کر اس مردود کے سامنے پیش کیا گیا واقعہ کربلا کے موقعہ پر یہاں اس کا ذکر ہے۔
۲
؎یعنی ایک چھڑی سے جو اس کے ہاتھ میں تھی اس سر مبارک دانت اور ناک شریف میں ٹھونکیں لگانے لگا کچھ سوچتے ہوئے یہ حرکت کر رہا تھا۔
۳
؎اس نے یا تو آپ کے حسن کی تعریف کی خواہ بطورِ تمسخر یا واقعی یا آپ کے متعلق برے الفاظ بولے کہ آپ حسین نہیں میں نے تو آپ کے حسن کا بڑا شہرہ سنا تھا یہ تو کچھ بھی نہیں مگر پہلے معنی قوی ہیں ابھی ترمذی کی روایت سے آرہا ہے۔
۴
؎ظاہر یہ ہے کہ حضرت انس کا یہ فرمان ابن زیاد کی تائید کے لیے ہے یعنی واقعی امام حسین بڑے ہی خوبصورت و حسین تھے تجھے ان کے مقابلہ میں شرم کرنی چاہیے تھی،یہ حضور کے ہم شکل تھے تو نے کس چاند کی صورت کو خاک میں سلا دیا۔
۵
؎اس کی تحقیق ہم گزشتہ احادیث میں کرچکے ہیں کہ خالص وسمہ سبز رنگ دیتا ہے مگر مہندی سے ملکر تو پکا لال رنگ دیتا ہے اور اگر مہندی سے غالب ہو سیاہ رنگ دیتا ہے۔ظاہر یہ ہے کہ حضرت حسین نے خالص وسمہ لگایا ہوا تھا اور داڑھی شریف کا رنگ ہرا تھا اور اگر سیاہ رنگ ہو تب بھی آپ کو جائز تھا کہ آپ غازی تھے،غازی کو سیاہ خضاب جائز ہے بلا وجہ ممنوع ہے لہذا اس حدیث سے سیاہ خضاب کے جواز پر دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔
۶
؎طبرانی کی روایت میں ہے کہ ابن زیاد نے حضرت حسین کی آنکھوں اور ناک شریف میں چھڑی لگائی میں نے کہا کہ یہاں سے اپنی چھڑی ہٹا میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ ان مقامات کو بوسہ دیتے تھے جہاں تو چھڑی لگا رہا ہے تب وہ باز آیا۔ذخائر میں بروایت عمارہ ابن عمر ہے کہ جب ابن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے کٹے ہوئے سر لائے گئے تھے یہ سب سر ایک طشت میں تھے کہ شور مچا وہ آیا وہ آیا دیکھا تو ایک سانپ آیا جو ابن زیاد کے منہ ناک اور آنکھوں میں پھرا اور چلا گیا،پھر شور مچا وہ آیا وہ آیا پھر وہی سانپ آیا اور اسی طرح ابن زیاد کے منہ اور ناک میں گھسا پھر چلا گیا۔(از مرقات)رب نے اس کی گستاخی کی سزا دنیا میں یہ دی اخروی سزا باقی ہے،یہ حدیث ترمذی نے بھی روایت فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6179