Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6165

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلٰى شَيْء وَلَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ: مَا هٰذَاالَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ؟ فَكَشَفَهٗ فَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلٰى وَرِكَيْهِ.فَقَالَ:«هٰذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِي اللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أسامة بن زيد قال: طرقت النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة في بعض الحاجة فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وهو مشتمل على شيء ولا أدري ما هو فلما فرغت من حاجتي قلت: ما هذاالذي أنت مشتمل عليه؟ فكشفه فإذا الحسن والحسين على وركيه.فقال:«هذان ابناي وابنا ابنتي اللهم إني أحبهما فأحبهما وأحب من يحبهما» رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں ایک رات کسی کام سے نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں گیا ۲؎تو نبی صلی الله علیہ و سلم اس طرح تشریف لائے کہ آپ کسی چیز کو گود میں لیے تھے مجھے خبر نہ تھی کہ وہ کیا ہے۳؎تو جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا میں نے پوچھا یہ کیا ہے جو آپ گود میں لیے ہیں ۴؎حضور نے اسے کھولا تو حسن و حسین آپ کی رانوں پر تھے فرمایا یہ میرے دونوں بیٹے میری بیٹی کے بیٹے ہیں ۵؎الٰہی میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت کر۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت اسامہ ابن زید ابن حارثہ کے حالات و فضائل پیچھے گزر چکے۔
۲
؎طروق کے معنی ہیں طریق طے کرکے کسی کے پاس پہنچنا،اب اصطلاح میں رات کے جانے کو طروق کہتے ہیں۔ماخوذ ہےطروقۃ الفہلسے اس لیے تارے کو طارق کہتے ہیں کہ وہ رات میں گویا سفرکرتا ہے"وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ"۔۳؎یعنی مجھے یہ تو محسوس ہوتا تھا کہ حضور انور کی گودمیں کچھ ہے کہ آپ کی گود ابھری ہوئی تھی مگر یہ پتہ نہ چلتا تھا کہ کیا چیز، رات اندھیری تھی اور وہ چیز بھی کمبل شریف میں چھپی ہوئی تھی۔
۴
؎حضرت اسامہ بہت دیر تک حاضر رہے باتیں کرتے رہے حضور انور صلی الله علیہ و سلم اسی طرح بیٹھے رہے بغیر جنبش کیے ہوئے اس لیے آپ نے یہ پوچھنے کی ہمت کی۔
۵
؎یہ عبارت بیان ہےابنایکا یعنی یہ حکمًا میرے بیٹے ہیں اور حقیقتًا میری بیٹی کے بیٹے ہیں مجھے ان سے بیٹوں جیسی محبت ہے۔ خیال رہے کہ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ کی اولاد حضور کی نسل ہے اس سے حضور کی نسل چلی گویا حسن و حسین حضور کی نسل بھی ہیں اور نسل کی اصل بھی ورنہ نسب باپ سے ہوتا ہے نہ کہ ماں سے،ہاں شرف ماں سے بھی ہوجاتا ہے۔لفظ آل دونوں پر بولا جاتا ہے بیٹے کی اولاد پربھی اور بیٹی کی اولاد پر بھی۔ حضرت حنہ اور مریم اور عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کریم نے عمران کی آل فرمایا حتی کہ ایک سورہ کا نام آل عمران ہوا۔
۳
؎اس دعا کا مقصود حضرت اسامہ کو سنانا اور بتانا ہے کہ اسامہ میرے حسن و حسین سے محبت کرو کہ ان کی محبت الله تعالٰی کی محبوبیت کا ذریعہ ہے۔خیال رہے کہ دلی محبت بجلی کی کرنٹ کی طرح ایک متعدی چیز ہے جس سے محبت ہوتی ہے اس کی اولاد گھر والے نوکروں چاکروں حتی کہ اس کے شہر سے محبت ہوجاتی ہے"لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الْبَلَدِ"۔ شعر
خاک طیبہ از دو عالم خوشتر است اے خنک شہرے کہ درولے دلبر است

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6165