Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6143

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ حَتّٰى أَتٰى خِبَاءَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: أَثَمَّ لُكَعُ؟ أَثَمَّ لُكَعُ؟ يَعْنِي حَسَنًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعٰى حَتّٰى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهٗ فَأَحِبَّهٗ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهٗ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في طائفة من النهار حتى أتى خباء فاطمة فقال: أثم لكع؟ أثم لكع؟ يعني حسنا فلم يلبث أن جاء يسعى حتى اعتنق كل واحد منهما صاحبه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم إني أحبه فأحبه وأحب من يحبه . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ دن کے ایک حصہ میں نکلا حتی کہ آپ جناب فاطمہ کے ڈیرے پر آئے تو فرمایا کہ کیا یہاں بچہ ہے کیا یہاں بچہ ہے ۱∞؎یعنی جناب حسن تو نہ ٹھہرے کہ حسن دوڑتے ہوئے آگئے حتی کہ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے صاحب کے گلے لگ گئے پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الٰہی میں اس سے محبت کرتا ہوں تو تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے محبت کرے اس سے محبت کر ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎لکعکے معنی ہیں کم عقل یا بے عقل۔بچہ کولکعاس لیے کہتے ہیں کہ وہ بے عقل ہے اس کے اور بہت معنی ہیں۔
۲
؎حضور کی یہ دعا تاقیامت محبین حسنین کے متعلق قبول ہے بشرطیکہ محبت واقعی ہو محض دعویٰ کی نہ ہو ورنہ ہم نے بعض جاہل پیروں کو دیکھا کہ بھنگ گھوٹ رہے ہیں اور گاتے جاتے ہیں گھٹے بھنگ تو چڑھے رنگ یاعلی مدد پنجتن پاک کی جےلا حول ولا قوۃ۔ یہ محبت حسین نہیں عداوت حسنین ہے حضرات حسنین نے کبھی نماز چھوڑی نہیں انہوں نے کبھی پڑھی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6143