Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6136

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهٗ ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهٗ ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا ثُمَّ جَاءَ عَلَيٌّ فَأَدْخَلَهٗ ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة قالت: خرج النبي صلى الله عليه وسلم غداة وعليه مرط مرحل من شعر أسود فجاء الحسن بن علي فأدخله ثم جاء الحسين فدخل معه ثم جاءت فاطمة فأدخلها ثم جاء علي فأدخله ثم قال: إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک صبح کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم باہر تشریف لے گئے آپ پر کالی اون کی مخلوط چادرتھی ۱∞؎حسن ابن علی آئے حضور نے انہیں داخل کرلیا پھر جناب حسین آئے وہ بھی انکے ساتھ داخل ہوگئے پھر جناب فاطمہ آئیں انہیں بھی داخل کرلیا گیا پھر جناب علی آئے انہیں بھی داخل کرلیا پھر فرمایا اے نبی کے گھر والوں اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کردے ۲؎اور تم کو خوب پاک و صاف فرمادے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ اس وقت ہوا جب کہ آیتِ کریمہ"یُرِیۡدُ اللهُ لِیُـذْهِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَهۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَهِرَکُمْ تَطْهِیۡرًا" نازل ہوئی۔
۲
؎خیال رہے کہ یہ آیت کریمہ ازواج مطہرات کے حق میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اوپر سے انہیں کا ذکر ہے اور خود اس آیت کے اول میں انہیں سے خطاب ہے اور بعد میں بھی انہیں سے خطاب،اگر اتنے ٹکڑے میں یہ حضرات مراد ہوں تو آیاتِ بلکہ ایک آیت کے اجزاء میں سخت بے ربطی ہوجاوے گی مگر چونکہ انہیں ازواج پاک اہلِ بیت کے لفظ سے یاد فرمایا گیا لہذایطھرکمضمیر جمع مذکر ارشاد ہوئی کہ لفظ اہل بیت مذکر ہے جیسے فرشتوں نے حضرت سارہ زوجہ ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا تھا "اَتَعْجَبِیۡنَ مِنْ اَمْرِ اللهِ رَحْمَتُ اللهِ وَبَرَکَاتُہٗ عَلَیۡکُمْ اَهۡلَ الْبَیۡتِ"وہاں بھیعلیکمجمع مذکر کی ضمیر ارشاد ہوئی ہے۔حضور انور نے چاہا کہ ان حضرات کو بھی اس میں داخل فرمالیں لہذا دعا فرمائی کہ الٰہی یہ بھی میرے گھر والے ہی ہیں انہیں بھی خوب پاک فرمادے اسی لیے روایات میں ہے کہ جناب ام سلمہ نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے بھی اس کمبل شریف میں داخل فرمالیں فرمایاانت علی خیرتم تو اس آیت خیر میں ہو ہی تمہارے لیے دعا کرکے داخل کرنے کی کیا ضرورت ہے،ہم تو ان کو داخل کرنے کی دعا کررہے ہیں جو اس میں داخل نہیں۔
۳
؎ان ساری آیات میں حضور کی ازواج پاک سے خطاب ہے"یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ"فرماکر انہیں حکم دیا گیا کہ پردے میں رہو، تلاوت قرآن کرو،نماز کی پابندی کرو۔اس جملہ یعنی"لِیُـذْهِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ"الخ میں ان احکام کی حکمت کا ذکر ہے کہ ہم نے تم کو یہ احکام اس لیے دیئے کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم سے زمانہ جاہلیت کی گھنونی عادات کی گندگی دور رکھے اور تم کو پاک و صاف رکھے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے یہ حضرات پاک و صاف نہ تھے اب پاک ہوں گے۔خیال رہے کہ سواء انبیاء کرام اور فرشتوں کے معصوم کوئی نہیں ہاں حضرت صحابہ اور بعض اولیاء اللہ محفوظ ہیں۔اس آیت سے ان حضرات کی معصومیت ثابت نہیں ہوتی جیساکہ روافض نے سمجھا۔مصوم وہ جو گناہ نہ کرسکے،محفوظ وہ جو گناہ نہ کرے۔بعض روایات میں ہے کہ حضرت ام سلمہ نے حضور سے اس موقعہ پر عرض کیا حضور میں بھی آپ کی اہل بیت ہوں فرمایا تم بھی اہلِ بیت ہو،بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ام سلمہ کو بھی کمبل میں لے لیا پھر یہ دعا فرمائی۔(مرقات)خیال رہے کہ لفظ پنجتن پاک اس حدیث سے لیا گیا ہے اور یہ واقعہ بہت بار ہوا کبھی ام سلمہ کو کمبل شریف میں داخل نہیں کیا اور کبھی داخل فرمالیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6136