Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6139

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي» وَفِي رِوَايَةٍ: «يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن المسور بن مخرمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«فاطمة بضعة مني فمن أغضبها أغضبني» وفي رواية: «يريبني ما أرابها ويؤذيني ما آذاها» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ فاطمہ میر اٹکڑا ہے ۱∞؎جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو چیز انہیں پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اور جو انہیں تکلیف دے مجھے ستاتا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے یا میرے گوشت کا ٹکڑا،اس بناء پر جناب فاطمہ زہرا سب سے افضل ہیں بھلا حضور کے لخت جگر کی برابر کون ہوسکتا ہے،آپ کا نام فاطمہ کبریٰ کے لیے حضور کی سب سے چھوٹی بیٹی،۲ ہجری رمضان میں آپ کا نکاح جناب علی سے ہوا،ذی الحجہ میں رخصت،آپ کے چھ بچے ہوئے: حسن،حسین،محسن، زینب،ام کلثوم،رقیہ۔حضور صلی الله علیہ و سلم کی وفات کے چھ ماہ بعد وفات پائی،عمر شریف اٹھائیس سال ہوئی،آپ کو جناب علی کرم الله وجہہ نے غسل دیا آپ نے ہی نماز پڑھی اور شب میں دفن کیا۔(مرقات)مگر صحیح یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔
۲
؎یعنی جو فاطمہ زہرا کو تکلیف دینے انہیں ستانے کے لیے کوئی کام یا کلام کرے اس نے مجھے ایذا پہنچائی یہ کلمات انصار صحابہ بلکہ ہر مؤمن کے لیے بھی آئےمن ابغض الانصار ابغضہ الله،حب قریش ایمان و بغضہم کفر،حب العرب ایمان و بغضہم کفر،من ابغض العرب فقد ابغضنی۔(مرقات)خیال رہے کہ کسی سے حضرت سیدہ کا ناراض ہونا کچھ اور ہے اور ان کو ناراض کرنا کچھ اور،جب حضرت علی نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تو آپ ناراض ہوئیں آپ کی شکایت حضور سے کی،حضرت ابوبکر صدیق سے اپنی میراث مانگی،آپ نے ایک حدیث سنا کر انکار کیا تو آپ اپنے مانگنے پر ناراض یعنی نادم ہوئیں،اس ناراضگی کی حیثیت کچھ اور ہے،قیامت میں اعلان ہوگا کہ تمام لوگ اپنے سرجھکالیں فاطمہ گزر رہی ہیں،جناب فاطمہ ستر ہزار حوران بہشتی کے ہمراہ بجلی کی کوند کی طرح گزریں گی۔ (صواعق،مرقات)
۳
؎غالبًا یہ فرمان عالی جب صادر ہوا جب کہ حضرت علی کرم الله وجہہ نے دوسرا نکاح کرنا چاہا اور جناب فاطمہ زہرا نے یہ شکایت حضور صلی الله علیہ و سلم سے کی۔اس سے معلوم ہوا کہ اگرکسی جائز بلکہ فرض کام سے حضور ناراض ہوں تو وہ کام حرام ہوجاتا ہے۔نکاح سنت ہے مگر فاطمہ زہرا کی موجودگی میں حضرت علی کے لیے حرام ہوگیا کہ یہ جناب فاطمہ کی تکلیف کا باعث تھا اور آپ کی تکلیف حضور کی تکلیف کا سبب۔خیال رہے کہ حضرت فاطمہ زہرا ابوبکر صدیق پر ناراض نہ ہوئیں نہ ہوسکتی تھیں کیونکہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ و سلم کی حدیث پیش کرکے میراث دینے سے معذرت کی تھی فرمان رسول پر ناراضی کسی مسلمان کا کام نہیں چہ جائیکہ حضرت فاطمہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6139