Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6173

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ أَنَّهٗ فَرَضَ لِأُسَامَةَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ وَخَمْسِمِائَةٍ وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِيهِ: لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَةَ عَلَيَّ؟ فَوَاللّٰهِ مَا سَبَقَنِي إِلٰى مَشْهَدٍ. قَالَ: لِأَنَّ زَيْدًا كَانَ أَحَبَّ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ فَآثَرْتُ حِبَّ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى حبِّي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عمر أنه فرض لأسامة في ثلاثة آلاف وخمسمائة وفرض لعبد الله بن عمر في ثلاثة آلاف. فقال عبد الله بن عمر لأبيه: لم فضلت أسامة علي؟ فوالله ما سبقني إلى مشهد. قال: لأن زيدا كان أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من أبيك وكان أسامة أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك فآثرت حب رسول الله صلى الله عليه وسلم على حبي. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے کہ آپ نے اسامہ کے لیے تین ہزار پانچ سو مقرر فرمائے اور عبدالله ابن عمر کے لیے صرف تین ہزارمقرر فرمائے ۱∞؎تو عبدالله ابن عمر نے اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح کیوں دی۲؎الله کی قسم وہ کسی موقعہ میں مجھ سے آگے نہ بڑھے۳؎فرمایا اس لیے کہ زید رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تمہارے باپ سے زیادہ پیارے تھے۴؎اور اسامہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے۵؎میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیارے کو اپنے پیارے پر ترجیح دی ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں مشہور صحابہ کے لیے بیت المال سے سالانہ وظیفے مقرر فرمائے تھے ان کے گزارے کے واسطے،اس سلسلہ میں اپنے محبوب ترین فرزند کا سالانہ وظیفہ تین ہزار درہم مقرر فرمائے اور حضرت اسامہ کے لیے ساڑھے تین ہزار درہم مقرر کیے یعنی پانچ سو درہم زیادہ۔
۲
؎چونکہ وظیفے کی زیادتی کمی درجہ کی زیادتی کمی کی علامت ہوتی ہے اس لیے جناب عبدالله نے سوال فرمایا،مال کی ہوس یا حضرت اسامہ پر حسد سے نہ کہا۔
۳
؎مشھدکے معنی ہیں حاضری کی جگہ یعنی مجلس۔اس سے مراد عام مجلس خیر ہے علمی ہو یا عملی،جہاد کی ہو یا حج کی۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد جہاد ہے یعنی ایسی کوئی مجلس خیر نہیں گزری جس میں اسامہ شریک ہوئے ہوں میں شریک نہ ہوا ہوں۔
۴
؎حضرت عمر رضی الله عنہ کا یہ فرمان عالی تواضع اور انکسار کی بنا پر ہے ورنہ حضرت عمر حضور صلی الله علیہ و سلم کے بڑے ہی محبوب صحابی ہیں یا یوں کہو کہ گھر میں رہنے سہنے کی محبوبیت حضرت زید کو زیادہ حاصل ہے ہر وقت گھر میں نظر آنے والے پر زیادہ کرم رہتا ہے غرضکہ اس سے کوئی خاص محبت مراد ہے۔
۵
؎یہاں بھی وہ ہی تحقیق ہے کہ اس مخصوص محبت میں جناب اسامہ حضرت ابن عمر سے بڑھے ہوئے تھے۔
۶
؎سبحان الله!یہ ہے حضرت عمر کا عشق رسول آپ نے حضرات حسنین کریمین کے لیے پانچ پانچ ہزار درہم سالانہ مقررفرمایاتھا،حضرات خلفاء ثلثہ اہلِ بیت اطہار کے لیے امان تھے،ان کے زمانہ میں حضرات حسنین بلکہ حضرت علی کسی غزوہ میں نہ بھیجے گئے،ان کے پردہ فرمانے کے بعد حضرت علی پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے حتی کہ آپ کو مدینہ منورہ چھوڑنا پڑا یہ ہی حال حضرات حسنین کریمین کا ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6173