Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6178

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلّٰى أَبُو بَكْرٍ الْعَصْرَ ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي وَمَعَهٗ عَلِيٌّ فَرَأَى الحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهٗ عَلٰى عَاتِقِهِ. وَقَالَ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ صَلَى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن عقبة بن الحارث قال: صلى أبو بكر العصر ثم خرج يمشي ومعه علي فرأى الحسن يلعب مع الصبيان فحمله على عاتقه. وقال: بأبي شبيه بالنبي صلى الله عليه وسلم ليس شبيها بعلي وعلي يضحك. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن حارث سے ۱ ∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے عصر کی نماز پڑھی پھر نکلے چل رہے تھے آپ کے ساتھ حضرت علی تھے تو حسن کو دیکھا بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے انہیں اپنے کندھے پر اٹھالیا اور فرمایا میرے باپ صدقے ۲؎تم نبی صلی الله علیہ و سلم کی ہم شکل ہو علی کے ہم شکل نہیں اور علی ہنس رہے تھے۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،نوفل ابن عبد مناف کی اولاد سے ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،مکہ معظمہ میں رہے۔(مرآت )
۲
؎یعنی حضرت ابوبکر صدیق نے جناب حسن کو پیار محبت سے اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔بابیکے معنی یہ نہیں کہ میرے باپ کی قسم کہ غیر خدا کی قسم ممنوع ہے بلکہ اس کے معنی ہیں کہ میرے باپ تم پر فدا تم پر قربان،یہ ہے جناب صدیق کی محبت اہل بیت اطہار سے۔
۲
؎یعنی اے حسن تمہاری شکل حضور انور سے ملتی جلتی ہے اپنے والد جناب علی سے نہیں ملتی جلتی۔خیال رہے کہ حضور سے بالکل مشابہت مخلوق میں کسی کو نہیں ہوسکتی الله تعالٰی نے حضور کو بے مثال بنایا ہے۔شعر
انہیں خالق نےاپنےحسن کےسانچےمیں ڈھالاہے وہ آئےاس جہاں میں سب حسینوں سےحسین ہوکر
عرب کے واسطے رحمت عجم کے واسطے رحمت وہ آئے لیکن آئے رحمۃ للعالمین ہو کر
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی شکل نمونہ ہے حضور کے شکل مبارک کی لہذا یہ حدیث حضرت علی کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور کا مثل نہ پہلے دیکھا گیا نہ بعد میں(مرقات)کہ وہاں پوری مثلیت مراد ہے۔روافض کا ایک فرقہ غرابیہ ہے وہ کہتا ہے کہ حضرت علی حضور سے ایسے مشابہہ تھے جیسے کوّا کوّے سے،جب پہلی وحی آئی تو حضرت علی حضور کے پاس تھے ہم شکلی کی وجہ سے جبریل دھوکا کھاگئے اور بجائے علی کے حضور کو وحی اور نبوّت دے گئے۔(مرقات)شاید بعد میں رب نے فرمایا ہوگا خیر اب چلنے دو۔
۳
؎یہ شخص عبید الله ابن عبدالله ابن زیاد ثقفی ہے،یہ یزید ابن معاویہ کی طرف سے کوفہ کا گورنر تھا،اس نے حضرت حسین رضی الله عنہ کے مقابلہ میں لشکر تیار کیا یہ مردود ۶۶ چھیاسٹھ ہجری میں مقام موصل میں ابراہیم ابن مالک ابن اشتر نخعی کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6178