Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6153

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ:كِتَابُ اللّٰهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتّٰى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن زيد بن أرقم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إني تارك فيكم ما إن تمسكتم به لن تضلوا بعدي أحدهما أعظم من الآخر:كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض وعترتي أهل بيتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض فانظروا كيف تخلفوني فيهما ". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں تم میں وہ چیز چھوڑتا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہو تو میرے بعد گمراہ نہ ہو گے ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ۱∞؎الله کی کتاب جو آسمان سے زمین تک دراز رسی ہے۲؎اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت یہ دونوں جدا نہ ہوں گے حتی کہ میرے پاس حوض پر آجاویں۳؎تو غورکرو تم ان دونوں سے میرے بعد کیا معاملہ کرتے ہو۔(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قرآن اہل بیت سے بڑا ہے اور عظمت والا ہے۔احدھماسے مراد قرآن کریم ہے اورآخرسے مراد اہل بیت ہیں۔ (مرقات)یہ مطلب نہیں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑا،قرآن اہل بیت سے بڑا،اہل بیت قرآن سے بڑے ورنہ پھر توکل واحد منہماہوتا،یہاں بھی اہل بیت میں سارے گھر والے داخل ہیں خواہ ازواج پاک ہوں یا اولاد۔
۲
؎جیسے اوپر سے لٹکی ہوئی رسّی ترقی کا ذریعہ بھی ہوتی ہے تنزل کا ذریعہ بھی کہ اسی سے چڑھا جاتا ہے اسی سے اترا جاتا ہے ایسے ہی قرآن ہی کے ذریعہ اس پر عمل کرکے ترقی ہوگی قرآن چھوڑکر تنزل،قرآن الله کی امان ہے جس نے اسے پکڑ لیا الله کی امان میں آگیا۔(مرقات)یہ فرمان عالی اس کی دلیل ہے کہ قرآن اہل بیت سے افضل ہے کیونکہ وہ الله کی رسی ہے۔(مرقات)
۳
؎اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ قرآن اور اہل بیت آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے،اہل بیت ہمیشہ قرآن و حدیث پر عامل رہیں گے،قرآن ان کے دل و دماغ اور عمل میں رہے گا۔دوسرے یہ کہ قرآن اور اہل بیت کبھی مجھ سے جدا نہ ہوں گے حتی کہ یہ دونوں میرے پاس حوض پر پہنچ جاویں گے اور حضور کی بارگاهِ عالی میں انکی سفارش کریں گے جنہوں نے ان دونوں کا حق ادا کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6153