Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6166

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمٰى قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِي تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ وَعَلٰى رَأْسِهٖ وَلِحْيَتِهٖ التُّرَابُ فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن سلمى قالت: دخلت على أم سلمة وهي تبكي، فقلت: ما يبكيك؟ قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم تعني في المنام وعلى رأسه ولحيته التراب فقلت: ما لك يا رسول الله؟ قال: «شهدت قتل الحسين آنفا» رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمیٰ سے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ میں ام سلمہ کے پاس گئی وہ رو رہی تھیں میں نے کہا آپ کو کیا چیز رلاتی ہے آپ بولیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا یعنی خواب میں ۲؎آپ کے سر اور ڈاڑھی مبارک پر مٹی ہے تو میں نے عرض کیا یارسول الله آپ کا یہ حال کیسا ہے فرمایا میں ابھی قتل حسین کے موقعہ پر حاضر تھا ۳؎(ترمذی)اور کہا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎بی بی سلمٰی جناب ابو رافع جو حضور کے آزادکردہ غلام ہیں ان کی زوجہ ہیں،حضرت ابراہیم ابن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی دائی ازواج مطہرات کی خدمت کیا کرتی تھیں،جناب فاطمہ زہرا کو اسماء بنت عمیس زوجہ ابوبکر صدیق نے غسل میت دیا ان کے ساتھ مدد کے لیے بی بی سلمیٰ موجودتھیں۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎حضرت ام سلمہ نے یہ خواب دسویں محرم جمعہ کے دن دوپہری میں دیکھی تھی وہ وقت تھا حضرت حسین کی شہادت کا۔مگر حق یہ ہے کہ خواب واقعہ کربلا سے پہلے کا ہے جس میں حضور انور نے آئندہ آنے والے واقعہ کی ام سلمہ کو خبر دی ہے خاص شہادت کے دن کا واقعہ نہیں۔
۳
؎خیال رہے کہ ام سلمہ کا نام ہند بنت ابی امیہ ہے،اولًا ابو سلمہ کے نکاح میں تھیں، ۴ھ؁ ∞میں ابو سلمہ کی وفات ہوئی،اسی سال حضور کے نکاح میں آئیں،چوراسی سال عمر پائی ۵۹ انسٹھ میں وفات ہوئی۔(اکمال،اشعہ)اور واقعہ کربلا آپ کی وفات سے دو سال بعد ہوا۔حضور انور نے آنے والے واقعہ کی حضرت ام سلمہ کو اس طرح خبر دے دی جیسے یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں شاہ مصر نے گایوں اور بالیوں کو کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ واقعہ قحط سالی کئی سال بعد ہوا، خواب میں آئندہ یا گزشتہ واقعات موجودہ شکل میں دکھائے جاتے ہیں۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: مؤمن خصوصًا اہل بیت خصوصًا جناب حسین کی تکلیف سے حضور انور کو قبر شریف میں تکلیف ہوتی ہے حضور اس دنیا سے بے خبرنہیں،رب فرماتا ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡهِ مَاعَنِتُّمْ"۔دوسرے یہ کہ حضور اپنی وفات کے بعد بھی عالم کی سیر فرماتے ہیں اپنی امت کے حالات کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔وہ جو کہا جاتا ہے کہ حضور میلاد شریف میں تشریف لاتے ہیں اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔تیسرے یہ کہ مقبولوں کی رفتار نور نظر کی رفتار سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور کہیں تشریف لے جاویں مدینہ آپ سے خالی نہیں ہوتا جیسے نور نظر آسمان کی سیر کرے مگر آنکھ میں بھی رہتا ہے، حضور نے ہاتھ بڑھا کر جنت کا خوشہ پکڑ لیا مگر حضور رہے مدینہ میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6166