Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6159

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ مَرَّتَيْنِ وَدَعَا لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه أنه رأى جبريل مرتين ودعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم مرتين. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ انہوں نے جبریل کو دوبار دیکھا اور ان کے لیے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دو بار دعا کی ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد صاحب کے ساتھ حضور انور کی بارگاہ میں حاضر ہوا حضور کے پاس ایک صاحب تھے جو بہت ہی حسین و جمیل تھے،کچھ دیر بعد حضرت عباس حضور انور کے پاس پھر حاضر ہوئے پوچھا حضور وہ حسین صاحب کہاں گئے،فرمایا وہ جبریل تھے جب تم دونوں یہاں آئے تو جبریل نے مجھ سے پوچھا یہ دونوں کون تھے میں نے فرمایا میرے چچا اور میرے چچا کا بیٹا،فرمایا یہ بچہ محل خیر ہے،ہم نے فرمایا جبریل تم ان کے لیے دعا خیرکرو انہوں نے کہااللھم بارك علیہم اللھم اجعل منہ کثیرا طیبًا۔(مرقات)دوسری بار اور جگہ حضور انور کے پاس بیٹھا ہوا حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں دیکھا آپ وہاں پہنچے اتفاقًا سلام نہ کیا،حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور انور صلی الله علیہ و سلم سے فرمایا کہ اگر یہ سلام کرتے تو میں انہیں بہت اچھا جواب دیتا،حضرت جبریل علیہ السلام چلے گئے تو حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے ابن عباس تم کو سلام سے کس چیز نے منع کیا۔یہ واقعہ امام سیوطی نے جمع الجوامع میں بروایت ابن عساکر اور شیخ نے اشعۃ اللمعات میں نقل کیا۔خیال رہے کہ حضرت جبریل کو بشکل انسان ابن عباس نے دو بار دیکھا،ان کی اصل شکل میں حضور صلی الله علیہ و سلم کے سواء کسی نے نہ دیکھا حضور نے بھی صرف دو بار ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6159