Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6138

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: قَالَتْ: كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهٗ. فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ مَا تَخْفٰى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهَا قَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنَتِي» ثُمَّ أَجْلَسَهَا ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأٰى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهٗ فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِيَ عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَّا أَخْبَرْتِينِي. قَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّ بِي فِي الْأَمْرِ الأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي: "أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهٗ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً،وَإنَّهٗ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أَرَى الأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللّٰهَ وَاصْبِرِي فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ» فَلَمَّا رَأٰى جَزَعِي سَارَّنِيَ الثَّانِيَةَ قَالَ: «يَا فَاطِمَةُ أَلَا تَرْضِينَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ؟»وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهٗ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهٖ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهٖ أَتْبَعُهٗ فَضَحِكْتُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة: قالت: كنا أزواج النبي صلى الله عليه وسلم عنده. فأقبلت فاطمة ما تخفى مشيتها من مشية رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رآها قال: «مرحبا بابنتي» ثم أجلسها ثم سارها فبكت بكاء شديدا فلما رأى حزنها سارها الثانية فإذا هي تضحك فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم سألتها عما سارك؟ قالت: ما كنت لأفشي على رسول الله صلى الله عليه وسلم سره فلما توفي قلت: عزمت عليك بما لي عليك من الحق لما أخبرتيني. قالت: أما الآن فنعم أما حين سار بي في الأمر الأول فإنه أخبرني: "أن جبريل كان يعارضه بالقرآن كل سنة مرة،وإنه عارضني به العام مرتين ولا أرى الأجل إلا قد اقترب فاتقي الله واصبري فإني نعم السلف أنا لك» فلما رأى جزعي سارني الثانية قال: «يا فاطمة ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء أهل الجنة أو نساء المؤمنين؟»وفي رواية: فسارني فأخبرني أنه يقبض في وجعه فبكيت ثم سارني فأخبرني أني أول أهل بيته أتبعه فضحكت. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں آپ کے پاس تھیں جناب فاطمہ آئیں ۱∞؎آپ کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی چال سے بالکل مختلف نہ تھی ۲؎تو جب انہیں حضور نے دیکھا تو فرمایا خوش آمدید اے میری بچی پھر انہیں بٹھالیا پھر ان سے کچھ سرگوشی کی ۳؎آپ بہت سخت روئیں تو جب ان کا رنج ملاحظہ فرمایا تو ان سے دوبارہ سرگوشی فرمائی تو وہ ہنس پڑی۴؎پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے تو میں نے ان سے سرگوشی کے متعلق پوچھا۵؎آپ بولیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا راز فاش نہیں کرسکتی پھر جب حضور کی وفات ہوگئی تو میں نے کہا کہ میں تم کو اس کی وجہ سے جو میرا تم پر حق ہے قسم دیتی ہوں کہ تم مجھے بتادو ۶؎آپ بولیں لیکن اب تو ہاں ضرور۷؎جس وقت حضور نے پہلی بار مجھ سے سرگوشی کی تو آپ نے مجھے خبر دی کہ حضرت جبریل ہر سال مجھ پر قرآن مجید ایک بار پیش کیا کرتے تھے اور انہوں نے اس سال مجھ پر دو بار پیش کیا۸؎میں نہیں خیال کرتا مگر یہ کہ میری وفات قریب ہے تم اللہ سے ڈرتی رہنا اورصبر کرنا ۹؎میں تمہارا بہترین پیش رو ہوں ۱۰؎تو میں رونے لگی تو جب حضور نے میری گھبراہٹ دیکھی تو مجھ سے دوبارہ سرگوشی کی فرمایا اے فاطمہ کیا تم اس پر اضی نہیں کہ تم جنتی لوگوں کی بیویوں یا مؤمنوں کی بیویوں کی سردار ہو ۱۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ مجھ سے حضور نے سرگوشی کی کہ اس بیماری میں حضور کی وفات ہوگی تو میں روئی پھر مجھ سے دوبارہ سرگوشی کی مجھے خبر دی کہ میں ان کے گھر والوں میں پہلی ہوں گی جو ان کے پیچھے پہنچوں گی۱۲؎تو میں ہنس پڑی۔ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎فاطمہ بنا ہےفطمسے بمعنی دور ہونا اس لیے جس بچہ کا دودھ چھڑا دیا جاوے اس فطیم کہتے ہیں۔چونکہ اللہ تعالٰی نے جناب فاطمہ ان کی اولاد ان کے محبین کو دوزخ کی آگ سے دور کیا ہے اس لیے آپ کا نام فاطمہ ہوا۔(مرقات)آپ کا لقب ہے بتول اور زہرا بتول کے معنی ہیں منقطع ہونا کٹ جانا"وَ تَبَتَّلْ اِلَیۡهِ تَبْتِیۡلًا"چونکہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے الگ تھیں لہذا بتول لقب ہوا زہرا بمعنی کلی آپ جنت کی کلی تھیں حتی کہ آپ کو کبھی حیض نہیں آیا۔(مدارج )آپ کے جسم سے جنت کی خوشبو آتی تھی جسے حضور سونگھا کرتے تھے(مبسوط سرخسی)اس لیے آپ کا لقب زہرا ہوا رضی اللہ عنہا۔ہم نے عرض کیا؎بتول و فاطمہ زہرا لقب اس واسطے پایا کہ دنیا میں رہیں اور دیں پتہ جنت کی نگہت کا
۲
؎حضرت فاطمہ سر سے پاؤں تک ہم شکل مصطفی تھیں،آپ کی چال ڈھال ہر وضع قطع حضور کے مشابہہ تھی،اللہ نے رسول کی جیتی جاگتی تصویر بنایا تھا ہم نے عرض کیا؎رسول اللہ کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا کیا نظارہ جن آنکھوں نے تفسیر نبوت کا
۳
؎حضور جب فاطمہ زہرا کو آتے دیکھتے تو خوشی میں کھڑے ہوجاتے تھے پیشانی اور ہاتھ کو بوسہ دیتے تھے،اپنی جگہ بٹھالیتے تھے یہ واقعہ وفات شریف سے بالکل قریب ہی ہوا۔
۴
؎تمام ازواج پاک موجود تھیں مگر یہ راز کی بات صرف جناب فاطمہ سے فرمائی آپ صاحب راز ہیں۔
۵
؎یعنی جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم وہاں سے تشریف لے گئے تو ہم نے حضرت فاطمہ سے پوچھا کہ حضور نے تم سے کیا فرمایا۔
۶
؎یعنی میں تمہاری ماں ہوں اور تم میری بیٹی ہو ماں کا بیٹی پر حق ہوتا ہے اس حق کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ اب تم مجھ کو بتادو کہ حضور انور نے تم سے کیا فرمایا تھا۔
۷
؎جناب فاطمہ نے اپنی قوت اجتہادیہ سے معلوم فرمالیا تھا کہ حضور کی حیات شریف میں یہ بات چھپانے کی تھی کیونکہ اس میں حضور کی وفات کی خبر تھی قبل از وقت اس کا اظہار مناسب نہ تھا اب جب کہ وفات شریف ہوچکی وہ راز نہ رہی تو اس گفتگو کا دوسرا حصہ یعنی میری وفات اور میرے درجہ کا اظہار بھی راز نہ رہا اس لیے اب بیان فرمادیا۔
۸
؎ظاہر یہ ہے کہ قرآن سے مراد سارا قرآن مجید ہے حضرت جبریل علیہ السلام ہر ماہ رمضان میں پورے قرآن کا حضور کے ساتھ دور کرتے تھے مگر اس دور کا نام نزول قرآن نہ تھا نزول تو وہ تھا جو حسب موقع آیات کا ورود ہوتا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان میں قرآن مجید کا دور کرنا سنت رسولی بھی ہے اور سنت جبریلی بھی کہ ایک پڑھے دوسرا سنے،پھر وہ پڑھے یہ سنے۔یہ واقعہ یعنی دوبار ایک ماہ میں دور فرمانا پندرہ دن میں دورہ ختم کر دینا حضور کے آخری رمضان شریف میں ہوا اور حضرت فاطمہ سے حضور کا یہ فرمان رمضان کے بعد تھا،اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اول ہی سے سارے قرآن سے واقف تھے،جسے قرآن نہ آتا ہو اس کے ساتھ دور نہیں کیا جاتا بلکہ اسے پڑھایا جاتا ہے،یہ بھی معلوم ہوا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی وفات کی خبر تھی کہ اگلے رمضان سے پہلے ہماری وفات ہوجاوے گی،بعض سورتیں مکمل نہیں نازل ہوئی تھیں کچھ آیات آچکی تھیں کچھ آنے والی تھیں پھر دور کیسا۔
۹
؎یعنی اے فاطمہ جیسے تم ہماری حیات شریف میں طیبہ طاہرہ متقیہ صابرہ رہی ہو ایسے ہی ہماری وفات کے بعد بھی رہنا تمہارے پائے استقلال میں جنبش نہ آنے پائے آپ نے اس پر عمل کرکے دکھا دیا۔رونا صبر کے خلاف نہیں نوحہ پیٹنا،ماتم کرنا صبر کے خلاف ہے یہ آپ نے کبھی نہیں کیا۔
۱۰
؎پیش رو وہ جوکسی کے آگے کسی مقام پر جاکر اس کا انتظام وغیرہ کرے یعنی ہم تم سے پہلے جارہے ہیں جب تم آؤ گی تو ہم تمہارے انتظار میں ہوں گے تمہارا گھر بار ساز و سامان ہماری نگرانی میں سب تیار ہوچکا ہوگا۔سبحان الله !۱۱∞؎یعنی مؤمن مردوں کی بیویوں کی تم سردار ہوگی لہذا جناب فاطمہ ازواج مطہرات خصوصًا جناب عائشہ صدیقہ اور خدیجۃ الکبریٰ کی سردار نہیں کہ وہ بیویاں مؤمنین کی بیویاں نہیں بلکہ حضور نبی صلی الله علیہ و سلم کی بیویاں ہیں۔سبحان الله !کیسی پیاری اور جامع عبارت ارشاد فرمائی۔
۱۲
؎یعنی میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تمہاری وفات ہوگی۔یہاں یہ نہ فرمایا کہ تمہاری وفات ہوگی بلکہ فرمایا سب سے پہلے تم مجھ سے ملوگی۔اس میں کئی غیبی خبریں ہیں: حضرت فاطمہ زہرا کا وقت وفات آپ کی نوعیت وفات کہ آپ کا خاتمہ ایمان،تقویٰ پرہیزگاری کے اعلیٰ درجہ پر ہوگا آپ کا قبر و حشر میں اول نمبر کامیاب ہونا،آپ کا پل صراط سے بخوبی گزر جانا،آپ کا جنت کی اعلیٰ مقام پر حتی کہ حضور کے ساتھ رہنا یہ ہی علوم خمسہ کی خبریں ہیں۔خیال رہے کہ فضیلت فاطمہ زہرا کے متعلق چند قول ہیں: ایک یہ کہ حضرت فاطمہ زہرا دنیا بھر کی تمام عورتوں سے افضل ہیں حتی کہ بی بی مریم جناب عائشہ اور جناب خدیجۃ الکبریٰ سے بھی۔دوسرے یہ کہ حضرت خدیجہ و عائشہ جناب فاطمہ زہرا سے افضل ہیں۔تیسرے یہ کہ یہ تینوں حضرات یعنی جناب خدیجۃ الکبریٰ،عائشہ صدیقہ،فاطمہ زہرا ہم رتبہ ہیں کوئی کسی سے افضل نہیں برابرہیں،ترجیح دوسرے قول کو ہے کہ جناب عائشہ و خدیجہ حضرت فاطمہ زہرا سے افضل ہیں کہ وہ ماں ہیں اور جناب فاطمہ زہرا بیٹی،نیز جنت میں وہ دونوں حضور کے ساتھ ہوں گی حضرت فاطمہ علی کے ساتھ،نیز عائشہ صدیقہ بڑی فقہیہ عالمہ مجتہدہ ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ"۔امام مالک فرماتے ہیں کہ طہارت نفس،شرف نسب میں جناب فاطمہ زہرا کی برابر کوئی نہیں ہوسکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6138