Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6158

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتّٰى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللّٰهُ بِهَا وَوَلَدَكَ» فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهٗ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءَهٗ ثُمَّ قَالَ: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهٖ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا اللّٰهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهٖ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ رَزِينٌ: «وَاجْعَلِ الْخِلَافَةَ بَاقِيَةً فِي عَقِبِهٖ» وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس: «إذا كان غداة الاثنين فأتني أنت وولدك حتى أدعو لهم بدعوة ينفعك الله بها وولدك» فغدا وغدونا معه وألبسنا كساءه ثم قال: «اللهم اغفر للعباس وولده مغفرة ظاهرة وباطنة لا تغادر ذنبا اللهم احفظه في ولده».رواه الترمذي وزاد رزين: «واجعل الخلافة باقية في عقبه» وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے عباس سے فرمایا کہ جب پیر کا سویرا ہو تو تم اور تمہارے فرزند میرے پاس آؤ ۱∞؎تاکہ میں تمہارے لیے ایسی دعا کروں جس سے الله تم کو اور تمہارے فرزند کو نفع دے چنانچہ وہ اور ان کے ساتھ ہم سب سویرے ہی گئے حضور نے ہم کو اپنا کمبل اوڑھایا ۲؎پھر فرمایا الٰہی عباس اور ان کے بیٹے کی ظاہری و باطنی بخشش کر۳؎جو کوئی گناہ نہ چھوڑے الٰہی ان کی حفاظت فرما ان کی اولاد میں ۴؎(ترمذی)اور رزین نے زیادہ کیا کہ الٰہی ان کی اولاد میں خلافت مقرر فرما۵؎ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ سوموار کے دن کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ورنہ آپ ابھی اس وقت دعا کردیتے یا اس دن حضور کی کوئی خاص خوشی ہوگی،خوشی اور جوش کے وقت کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام سے جب ان کے لڑکوں نے کہا"یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا"ابا جان ہمارے لیے بخشش کی دعا کرو تو آپ نے فرمایا"سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیۡ"ابھی نہیں آئندہ دعا کروں گا یعنی جب میں یوسف علیہ السلام کو دیکھوں گا دل خوش ہوگا تب دعا کروں گا۔دعا کرانے اور دعا لینے میں بڑا فرق ہے یہاںولدسے مراد ساری اولاد ہے۔
۲
؎لہذا حضرت عباس اور ان کے سارے لڑکے بھی اصحاب عبا ہیں کہ حضور انور نے انہیں اپنے کمبل شریف میں اپنے ساتھ لیا،یہ ہی واقعہ حضرت فاطمہ وحسنین کریمین کے ساتھ ہوا ۔اس سے معلوم ہوا کہ دوشنبہ کا دن اور دوشنبہ کا سویرا بہت اعلی دن اور اعلی وقت ہے،کیوں نہ ہو کہ یہ حضور انورصلی الله علیہ و سلم کی ولادت پاک کا دن اور وقت ہے۔ہم کو بھی چاہیے کہ دو شنبہ کے دن صبح سویرے درود شریف اور دعاؤں کی کثرت کیا کریں،جس دن جس مہینہ جس وقت میں الله کی کوئی نعمت دنیا کو ملے وہ دن مہینہ وہ وقت تا قیامت برکت والا ہوجاتا ہے۔ماہ رمضان شب قدر میں ایک بار قرآن مجید آچکا مگر تاقیامت وہ مہینہ وہ رات برکت والی ہوگئی،یوں ہی ماہ ربیع الاول دو شنبہ کا سویرا برکت والا ہے خصوصًا جب کہ ربیع الاول کا مہینہ بارہ تاریخ سویرے کا وقت ان کا اجتماع ہوجائے تب توسبحان الله!۳؎یعنی ظاہری ذنوب باطنی عیوب جو جانے علام الغیوب سب کو معافی دے دے آئندہ کے لیے اصلاح فرمادے کہ نہ ان تک ذنوب پہنچیں نہ عیوب۔(از مرقات)
۴
؎یعنی حضرت عباس کو مع ان کی اولاد کے اپنی حفظ و امان میں رکھ یا حضرت عباس کو ان کی اولاد میں رہتے ہوئے محفوظ رکھ مطلب ایک ہی ہے۔خیال رہے کہ ان بزرگوں کو کمبل شریف میں لے کر یہ اشارہ فرمایا کہ یہ لوگ بظاہر چند ہیں مگر درحقیقت ایک ہیں کہ ایک کمبل رحمت میں ہیں کل قیامت میں ایک جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ (مرقات)
۵
؎نبی کی خلافت باطنی ولایت ہے۔مطلب یہ ہے کہ الٰہی تاقیامت ان کی اولاد میں ولایت قائم رہے،ان میں اولیاء الله، ابدال، غوث و قطب،علم شریعت و طریقت رہے،ان کی نسل ولایت سے خالی نہ ہوجاوے۔اشعۃ اللمعات نے خلافت کے معنی کئے سلطنت،دولت پائیدار۔چنانچہ بہت عرصہ خلافت و سلطنت بنی عباس میں رہی۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6158