Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2689

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنِ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذٰلِكَ مَا أحبَّتْ مِنْ أَلْوَانِ الثِّيَابِ، مُعَصْفَرٍ، أَوْ خَزٍّ، أَوْ حُلِيٍّ، أَوْ سَرَاوِيلَ، أَوْ قَمِيصٍ، أَوْ خُفٍّ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن ابن عمر: أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى النساء في إحرامهن عن القفازين والنقاب وما مس الورس والزعفران من الثياب ولتلبس بعد ذلك ما أحبت من ألوان الثياب، معصفر، أو خز، أو حلي، أو سراويل، أو قميص، أو خف.رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو سنا کہ آپ عورتوں کو بحالت احرام دستانوں اور نقاب سے اور ان کپڑوں سے جنہیں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرماتے تھے ۱؎ہاں احرام کے بعد جو رنگ برنگے کپڑے سرخ یا ریشمی یا زیور یا پائجامہ یا کرتہ یا موزہ چاہے پہنے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی عورت کو بحالت احرام تین چیزیں منع ہیں:دستانہ پہننا،چہرے پر نقاب اس طرح ڈالنا کہ کپڑا منہ کو لگے،بدن یا کپڑے پر خوشبو ملنا۔
۲
؎بعد ذلكکے معنے اشعۃ اللمعات میں تو یہ کئے کہ احرام کے بعد جو چاہے پہنے کہ مانع جاتا رہا مگر مرقات میںبعدکے معنے کئےسواء ذالكسے اشارہ کیا گزشتہ تین چیزوں کے طرف اور معنے یہ کئے کہ ان تین لباسوں کے علاوہ محرمہ عورت بحالت احرام جو چاہے لباس پہنے۔مطلب یہ ہے کہ عورت پر مردوں کی سی پابندی نہیں سر نہ ڈھکے یا سلے کپڑے نہ پہنے وغیرہ بلکہ اسے سر ڈھکنا،سلے کپڑے پہننا سب جائز ہے بلکہ اگر نقاب چہرے سے الگ رہے تو وہ بھی جائز ہے،مرقات کے یہ دوسرے معنے زیادہ قوی معلو م ہوتے ہیں۔واللّٰه تعالٰی اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2689