Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2688

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهٖ وَهُوَ بِالحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقُمَّلُ تَتَهَافَتُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ» . وَالْفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ: «أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّام أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن كعب بن عجرة أن النبي صلى الله عليه وسلم مر به وهو بالحديبية قبل أن يدخل مكة وهو محرم وهو يوقد تحت قدر والقمل تتهافت على وجهه فقال: «أتؤذيك هوامك؟» . قال: نعم. قال: «فاحلق رأسك وأطعم فرقا بين ستة مساكين» . والفرق: ثلاثة آصع: «أو صم ثلاثة أيام أو انسك نسيكة»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم ان پرگزرے جب کہ وہ مقام حدیبیہ میں تھے مکہ معظمہ داخل ہونے سے پہلے ۲؎وہ محرم تھے اور ہانڈی کے نیچے آگ جلارہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں ۳؎تو فرمایا کیا تمہیں جوئیں دکھ دے رہی ہیں عرض کیا ہاں فرمایا تو اپنا سر منڈا دو اور ایک فرق(تین صاع)۴؎دانے مسکینوں میں بانٹ دو ۵؎فرق تین صاع کا ہوتا ہے یا تین دن کے روزے رکھ لو یا قربانی دے دو ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱ ∞ ؎آپ صحابی ہیں،بیعۃ الرضوان میں حاضر تھے،زمانہ جاہلیت میں عبادہ ابن صامت سے دوستی تھی،آپ کا ایک بت تھا جس کی پرستش کرتے تھے،ایک دن حضرت عبادہ نے ان کی غیر موجودگی میں بت توڑ دیا،آپ نے آکر بت کو ٹوٹا ہوا اور حضرت عبادہ کو وہاں بیٹھا ہوا پایا تو حضرت عبادہ پر غصہ آیا مگر فورًا دل سے آواز آئی کہ اے کعب اگر بت کچھ کرسکتے ہوتے تو اپنے کو عبادہ سے کیوں نہ بچاتے یہ خیال آتے ہی اسلام قبول کرلیا۔(اشعہ)کوفہ میں قیام رہا،مدینہ منورہ میں وفات پائی، پچھتر۷۵سال عمر پائی ۵۱ھ میں انتقال ہوا۔(اکمال)
۲
؎یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے سال کا ہے،ابھی کفار مکہ سے صلح کی گفتگو شروع نہ ہوئی تھی،مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی قوی امید تھی۔
۳
؎یعنی سر میں جوئیں بہت ہوگئیں تھیں مگر احرام کی وجہ سے نہ مارسکتے تھے نہ سرخطمی وغیرہ سے دھو سکتے تھے حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ چہرے پر جوئیں رینگنے لگیں۔
۴
؎فرقعرب کے ایک پیمانہ کا نام ہے جس میں سولہ رطل یا بارہ مد یا تین صاع گندم سماتے ہیں،راءکے سکون سے بھی ہے اور فتح سے بھی۔
۵
؎لہذا ہر مسکین کو آدھا صاع ملے گا،دانہ سے مراد گندم ہے۔ہمارا یہ ہی مذہب ہے کہ محرم پر سر منڈانے کی صورت میں تین صاع گندم چھ مسکینوں میں تقسیم کرنا لازم ہے۔(مرقات)
۶
؎یہ حدیث اس آیت کریمہ کی تفسیر"وَلَا تَحْلِقُوۡا رُءُوۡسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ فَمَنۡ كَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوْ بِہٖۤ اَذًی مِّنۡ رَّاۡسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ"یعنی قربانی اپنے ٹھکانے پر پہنچنے سے پہلے سر نہ منڈاؤ،جو تم میں بیمار یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس پر فدیہ لازم ہے روزے یا صدقہ یا قربانی۔حدیث شریف نے بتایا کہ روزے تین واجب ہوں گے اور اگر صدقہ دے تو تین صاع مسکینوں کو دے گا،ہرمسکین کو نصف صاع،غرض کہ ضرورۃً سر منڈانے کا محرم پر کفارہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2688