Main Icon

باب: جن چیزوں سے محرم بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2687

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهٗ يَسْتُرُهٗ من الْحَرِّ حَتّٰى رَمٰى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أم الحصين قالت: رأيت أسامة وبلالا وأحدهما آخذ بخطام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم والآخر رافع ثوبه يستره من الحر حتى رمى جمرة العقبة. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت ام الحصین سے فرماتی ہیں میں نے حضرت اسامہ و بلال کو دیکھا کہ ان میں سے ایک رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے اور دوسرے صاحب اپنا کپڑا تانے ہوئے تھے ۱؎آپ کو گرمی سے بچاتے تھے حتی کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت بلال تو اونٹنی کی مہار پکڑے تھے اور حضرت اسامہ سر انور پر سایہ کئے ہوئے تھے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اپنے خدام سے خدمت لینا جائز ہے خواہ خدام تنخواہ دار نوکر ہوں،یا اپنے شاگرد،مرید،معتقد۔ دوسرے یہ کہ محرم بحالت احرام چھتری، خیمہ،چادر کا سایہ لے سکتا ہے بشرطیکہ یہ چیزیں اس کے سر سے علیحدہ رہیں،روافض کے ہاں چھتری وغیرہ سے سایہ لینا بھی محرم کو درست نہیں۔
۲
؎اس میں یہ تصریح نہیں کہ یہ رمی دسویں بقر عید کی تھی،ممکن ہے کہ بعد والے دنوں کی ہو۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2687