Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 830

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ(باللَّيْلِ إِذَا يَغْشىٰ)وَفِي رِوَايَةٍ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ )وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذٰلِكَ وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذٰلِكَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر بن سمرة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في الظهر(بالليل إذا يغشى)وفي رواية (سبح اسم ربك الأ علی )وفي العصر نحو ذلك وفي الصبح أطول من ذلك . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ظہر میں"وَالَّیۡلِ اِذَا یَغْشٰی"پڑھتے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی" ۱؎اور عصر میں اسی طرح اورفجر میں اس سے کچھ دراز ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ یعنی ظہر کی رکعت اول میں"وَالَّیۡلِ اِذَا یَغْشٰی"یا"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی" پڑھتے تھے یا دونوں رکعتوں میں یہ سورت اس طرح پڑھتے کہ ہر رکعت میں آدھی سورت مگر پہلےمعنی زیادہ موزوں ہیں کیونکہ ہر رکعت میں پوری سورت پڑھنا نصف سورت پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے۔خیال رہے کہ ظہر و عصر میں تلاوت آہستہ ہوتی ہے لہذا صحابہ کرام کو اس تلاوت کا علم یا تو حضور کے بتانے سے ہوا یا سرکار ایک آدھ آیت آواز سے پڑھ دیتے تھے تاکہ صحابہ کو پتہ لگے کہ کون سی سورت پڑھ رہے ہیں۔
۲ ∞؎ خیال رہے کہ نماز کی قرأت میں احادیث مختلف آئیں مگر متعارض نہیں کیونکہ سرکار کی تلاوت موقع اور حالت کے لحاظ سے مختلف تھی کبھی لمبی قرأ ت فرماتے،کبھی چھوٹی جیسا موقع،نیز بعض حالات میں مستحب پر عمل فرماتے،بعض حالات میں صرف جواز پر،لہذا احادیث مخالف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 830