Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 841

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ:(مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهٖ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحٰى وَالْفِطْرِفَقَالَ: كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا: ب(قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيْدِ)وَ(اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ)رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبيد الله : أن عمر بن الخطاب سأل أبا واقد الليثي:(ما كان يقرأ به رسول الله صلى الله عليه وسلم في الأضحى والفطرفقال: كان يقرأ فيهما: ب(ق والقرآن المجيد)و(اقتربت الساعة)رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید الله سے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابو واقد لیثی سے پوچھا ۱؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بقر عیداور عید میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے ۲؎انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں میں"قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیۡدِ"اور"اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ"پڑھتے تھے۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ عبید الله تابعی ہیں،آپ کا نام عبید الله ابن عتبہ ابن مسعود ہزلی ہے،حضرت عبد الله ابن مسعود کے بھتیجے ہیں،اور ابو واقد کا نام ابن حارث۔
۲
؎حضرت عمر کا یہ سوال حاضرین کو مسئلہ سمجھانے کے لیے تھا ورنہ آپ حضور کے حالات طیبہ سے بہت زیادہ واقف تھے، حاضرین کے ذہن میں بٹھانے کے لیے آپ نے یہ سوال کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 841