Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 829

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نَحْرُزُ قِيَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهٗ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ (الٓمّٓ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ )-وَفِي رِوَايَةٍ: فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً - وَحَزَرْنَا قِيَامَهٗ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَالنّصْفِ مِنْ ذٰلِكَ وَحَزَرْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلیٰ قَدْرِ قِيَامِهٖ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذٰلِكَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سعيد الخدري قال: كنا نحرز قيام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الظهر والعصر فحزرنا قيامه في الركعتين الأوليين من الظهر قدر قراءة (الم تنزيل السجدة )-وفي رواية: في كل ركعة قدر ثلاثين آية - وحزرنا قيامه في الأخريين قدرالنصف من ذلك وحزرنا في الركعتين الأوليين من العصر علی قدر قيامه في الأخريين من الظهر وفي الأخريين من العصر علی النصف من ذلك . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے ظہر و عصر کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے ۱؎تو ہم نے آپ کے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہالٓم تنزیل السجدہپڑھنے کے بقدر ۲؎ایک روایت میں ہے کہ ہر رکعت میں تیس آیتوں کی بقدر۳؎اور ہم نے آخری رکعتوں میں قیام کا اندازہ اس سے آدھے کا لگایا ۴؎اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی آخری رکعتوں کے قیام کی بقدر اندازہ لگایا اور عصر کی آخری رکعتوں میں اس سے آدھا ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے حالات و صفات سوچنا،اس میں غور کرنا سنت صحابہ ہے اس سے نماز ناقص نہ ہوگی بلکہ کامل تر ہوگی۔دیکھو صحابہ کرام حضور کے پیچھے نمازبھی پڑھ رہے ہیں اور یہ خیال بھی رکھ رہے ہیں کہ آپ کا قیام کس قدرہوا یہ ان کے خشوع کے خلاف نہ تھا۔
۲
؎یعنی اتنا قیام فرماتے تھے کہ ہر رکعت میںالحمدکے علاوہالٓم تنزیل السجدہکی بقدر پڑھتے تھے یعنی انتیس آیتیں یا دونوں رکعتوں میں اس سورت کی بقدرمگر پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ کلام میں ہر رکعت میںالٓم تنزیل السجدہکی بقدر قرأت فرماتے تھے نہ کہ دونوں میں۔
۴
؎یعنی ظہر کی آخری دو رکعتوں میں ہر رکعت میں علاوہالحمدکے پندرہ آیات۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور ظہر کی آخری رکعتوں میں بھی سورۃ ملاتے تھے۔خیال رہے کہ فرائض کی آخری رکعتوں میں قرأت نفل ہے لہذا اگر خاموش رہے یا تسبیح پڑھے یاالحمدمع سورت پڑھے یا صرفالحمدپڑھے ہر طرح درست ہے۔یہاں تیسری صورت کا ذکر ہے یعنیالحمدمع سورت پڑھنا اور حضور کا یہ عمل شریف بیان جواز کے لیے ہے کیونکہ ان رکعتوں کا خالی پڑھنا مستحب ہے۔(اشعۃ)
۵
؎یعنی عصر کی اول رکعتوں میں ہر رکعت میں پندرہ آیتیں اور آخر کی دو رکعتوں میں پندرہ آیتیں۔اس سے معلوم ہوا کہ عصر میں تلاوت بمقابلہ ظہر کم ہونی چاہیے کہ احناف کے نزدیک فجر و ظہرمیں طوال مفصل پڑھنا اورعصر و عشاء میں وسط مفصل پڑھنا مستحب ہے،یہ حدیث اس کا ماخذ ہوسکتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 829