Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 855

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: «هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا» فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ«. قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذٰلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ » . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من صلاة جهر فيها بالقراءة فقال: «هل قرأ معي أحد منكم آنفا» فقال رجل: نعم يا رسول الله قال: إني أقول: ما لي أنازع القرآن«. قال فانتهى الناس عن القراءة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما جهر فيه بالقراءة من الصلوات حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم » . رواه مالك وأحمد وأبو داود والترمذي والنسائي وروى ابن ماجه نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے جس میں اونچی قرأت کی جاتی ہے تو فرمایا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی قرأت کی ایک شخص نے کہا ہاں یارسول الله ۱؎فرمایا تب ہی میں سوچتا تھا کہ مجھے کیا ہوا کہ میں قرآن میں جھگڑا کیاجارہا ہوں ۲؎ فرماتے ہیں کہ پھر لوگ حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں قرأت سے باز رہے جن میں بلند قرأت کی جاتی ہے جب حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ۳؎(امام مالک،احمد،ابو داؤد، ترمذی، نسائی)ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ ساری جماعت صحابہ میں صرف ان صاحب نے حضورصلی الله علیہ وسلم کے پیچھےالحمدپڑھی باقی کسی نے نہ پڑھی،انہوں نے بھی بے خبری کی وجہ سے پڑھی۔
۲
؎یعنی تمہارے پڑھنے کا مجھ پر یہ اثر پڑا کہ مجھے قرآن میں لقمے لگنے لگے۔اس کی تحقیق ابھی ہم کرچکے کہ مقتدی کی قرأت کا امام پر اثر پڑتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ انہوں نے چیخ کر قرأت کی ہو ورنہ حضور نہ پوچھتے کہ کیا تم نے قرأت کی ہے۔
۳
؎یعنی اس فرمان کے بعد صحابہ نے حضورصلی الله علیہ وسلم کے پیچھے جہری نمازوں میں تلاوت بالکل چھوڑ دی نہالحمدپڑھی نہ اور سورت۔خیال رہے کہ نسخ کی ترتیب یہ ہے کہ اولًا مسلمان نماز میں باتیں بھی کرتے تھے اورامام کے پیچھے فاتحہ بھی پڑھتے تھے جب یہ آیت اتری"وَقُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ" تو نماز میں کلام بند ہوگیا،پھر اس حدیث سے جہری نمازوں میں امام کے پیچھےالحمدپڑھنا بند ہوگئی،پھر یہ آیت اتری"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ" الخ،تب امام کے پیچھے قرأت بالکل بند ہوگئی،نیز حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے۔نسخ کی یہ ترتیب تفسیرِ خازن وغیرہ میں دیکھو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ"میں قرآن سے مراد خطبہ ہے اور آیت میں خطبہ کے وقت خاموشی کا حکم دیا گیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ اس آیت کے نزول کے وقت جمعہ فرض ہی نہیں ہوا تھا۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔
۴
؎نیز یہ حدیث امام مالک و شافعی نے بھی روایت کی۔ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے،ابن حبان نے فرمایا کہ صحیح ہے،بیہقی وحمیدی نے اسے ضعیف کہا۔(مرقات)یعنی یہ حدیث مختلف اسنادوں سے محدثین کو ملی،بعض کو صحیح اسناد سے،بعض کو حسن سے،بعض کوضعیف سے،ہر ایک نے اپنی اسناد کے مطابق اسے حسن یا صحیح وغیرہ کہا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 855