Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 835

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِبْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ (بِقٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيْدِ)وَنَحْوِهَا وَكَانَتْ صَلَاتُهٗ بَعْدُ تَخْفِيفًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابربن سمرة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في الفجر (بق والقرآن المجيد)ونحوها وكانت صلاته بعد تخفيفا. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم فجر میں"قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیۡدِ"وغیرہ پڑھا کرتے تھے پھر بعد میں آپ کی نماز کچھ ہلکی ہوگئی۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اولًا جب صحابہ تھوڑے تھے تو آپ نماز فجر بہت دراز پڑھاتے تھے جب صحابہ کی تعداد بڑھ گئی ان میں اکثر کام کاج والے تھے تو فجر ہلکی پڑھانی شروع کردی تاکہ ان کو مشقت نہ ہو یا یہ مطلب ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم فجر میں دراز تلاوت کرتے اور بعد کی نمازوں میں مختصر تلاوت۔اب بھی سنت یہ ہے کہ فجر کی نماز دراز پڑھی جائے اس میں بہت حکمتیں ہیں مگرپہلے معنی زیادہ واضح ہیں۔
۲
؎آپ کی کنیت ابو سعید ہے،قرشی ہیں،مخذومی ہیں،حضورصلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر بارہ سال تھی،حضور نے آپ کے سر پر ہاتھ پھیراہے اور دعا برکت کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 835