Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 840

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ ب(سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ )و (هَلْ أَتَاكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ)قَالَ: وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ قَرَأَ بِهِمَا فِي الصَّلَاتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن النعمان بن بشير قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في العيدين وفي الجمعة ب(سبح اسم ربك الأ علی )و (هل أتاك حديث الغاشية)قال: وإذا اجتمع العيد والجمعة في يوم واحد قرأ بهما في الصلاتين. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان بن بشیرسے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ"هَلْ أَتَاكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ"پڑھتے تھے۔فرماتے ہیں کہ جب عید اورجمعہ ایک دن میں جمع ہوجاتے تو یہ دونوں سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عید میں بھی اور جمعہ میں بھی۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اگرعید اور جمعہ جمع ہوجائیں تو نماز عید کیوجہ سے نماز جمعہ معاف نہ ہوجائے گی یہ بدستور فرض رہے گی۔حضرت عثمان غنی نے جو اپنے دور خلافت میں نماز عیدکے بعد فرمایا تھا کہ جمعہ کی نماز کے لیے جو چاہے ٹھہرے جو چاہے چلا جائےیہ ان گاؤں والوں سے خطاب تھا جن پر نہ نماز عید واجب تھی اور نہ نمازجمعہ فرض،برکت کے لیے عید و جمعہ پڑھنے شہر آجاتے تھے لہذا ان کاوہ فرمان اس حدیث کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ عید و جمعہ کا اجتماع منحوس نہیں جیسا کہ آج کل جہلا نے سمجھ رکھا ہے بلکہ اس میں دو برکتوں کا اجتماع ہے اور حضور کے زمانہ میں ایسا ہواہے۔تیسرے یہ کہ ایک سورت دو نمازوں میں پڑھنا جائز ہے۔خیال رہے کہ یہاں بھی حضورصلی الله علیہ وسلم کا اکثری عمل مراد ہے دائمی نہیں ورنہ آپ سے نماز جمعہ و عیدین میں اور سورتیں پڑھنا بھی ثابت ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 840