Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 858

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي قَالَ: «قُلْ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ » . قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هٰذَا لِلّٰهِ فَمَاذَا لِي قَالَ: «قُلْ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي» . فَقَالَ هٰكَذَا بِيَدَيْهِ وَقَبَضَهُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَمَّا هٰذَا فَقَدَ مَلَأَ يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَانْتَهَتْ رِوَايَةُ النَّسَائِيِّ عِنْدَ قَوْلِهٖ: «إِلَّا بِاللهِ »

وعن عبد الله بن أبي أوفى قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني لا أستطيع أن آخذ من القرآن شيئا فعلمني ما يجزئني قال: «قل سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله » . قال: يا رسول الله هذا لله فماذا لي قال: «قل اللهم ارحمني وعافني واهدني وارزقني» . فقال هكذا بيديه وقبضهما. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أما هذا فقد ملأ يديه من الخير» . رواه أبو داود وانتهت رواية النسائي عند قوله: «إلا بالله »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ میں قرآن کچھ بھی یاد نہیں کرسکتا تو مجھے وہ چیز سکھلا دیجئے جو کافی ہو ۱؎فرمایا یہ کہہ لیا کرو "سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ؎عرض کیا یارسول الله یہ تو الله کے لیے ہوا میرے واسطے کیا ہے ۳؎فرمایا کہہ لیا کرو الٰہی مجھ پر رحم کر مجھے امن،ہدایت اور روزی دے ۴؎پھر اس شخص نے دونوں ہاتھ بندکرکے ان سے یوں اشارہ کیا ۵؎حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ خیر سے بھر لیے۔(ابوداؤد)نسائی کی روایتالا باللهپرختم ہوگئی۔

شرح حدیث

۱∞؎تمام دعاؤں کی طرف سے یا روزانہ تلاوت قرآن کی طرف سے کہ اس کے پڑھنے میں مجھے تلاوت کا ثواب مل جایا کرے یا نماز میں تلاوت قرآن کی طرف سے،پہلے دو معنی زیادہ قوی ہیں کیونکہ یہ سائل عربی ہیں قرآن ان کی زبان میں ہے۔لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ جوازِنماز کے بقدربھی قرآن یاد نہ کرسکیں،نیز یہ دعا جو حضور نے ارشاد فرمائی یہ بھی آیات قرآن کے برابر ہی ہے،جب یہ یاد ہوسکتی ہے تو بقدر ضرورت نماز قرآن بھی یاد ہوسکتا ہے۔ (ازاشعۃاللمعات)اگر آخری معنی مراد ہوں تو اس سے مسئلہ یہ معلوم ہوگا کہ نو مسلم جو ابھی قرآن یاد نہ کرسکایا گونگا وغیرہ اس کے لیے نماز کے افعال ہی کافی ہیں۔
۲
؎یعنی اگر تم روزانہ تلاوت قرآن نہ کر سکو تو یہ کلمات کہہ لیا کرو اس میںاِنْ شَاءَاللّٰهُتلاوت کا ثواب پاؤ گے کیونکہ یہ خزائن الہیہ میں سے ہیں،ان کلمات کے بڑے فضائل آئے ہیں،نیز یہ متفرق کلمات قرآنیہ کے جامع ہیں اور رب کی وحدانیت اور صفات ثبوتیہ اور تنزیہیہ کا مجموعہ ہیں۔
۳
؎یعنی اس میں خدا کی حمد تو آگئی میرے لیے دعا کے الفاظ نہ آئے۔اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روزانہ کی تلاوت یا ورد وظیفوں کے متعلق سوال کررہے ہیں۔
۴
؎یعنی مجھ پر رحم کر،میرے پچھلے گناہ معاف کردے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق دے اور مجھے دین و دنیا کی آفتوں سے نجات دے،دین اسلام پر استقامت بخش اور احکام پرعمل کی ہدایت دے اور رزق حلال،مخلوق سے استغناء،حسن خاتمہ نصیب کر،یہ دعا بہت جامع ہے،بعض بزرگ دو سجدوں کے درمیان قعدے میں یہ پڑھا کرتے ہیں۔
۵
؎یعنی خوشی میں دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرلیں کہ میں نے دونوں جہاں کی نعمتوں پر قبضہ کرلیا۔یہقالبمعنیاشارہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 858