Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 838

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفجْر يَوْم الْجُمُعَة (بِآلٓمٓ تَنْزِيلُ)فِي الرَّكْعَةِ الْأُولٰى وَفِي الثَّانِيَةِ (هَلْ أَتٰى عَلَی الْإِنْسَانِ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في الفجر يوم الجمعة (بالم تنزيل)في الركعة الأولى وفي الثانية (هل أتى علی الإنسان) (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی پہلی رکعت میںالم تنزیلاور دوسری رکعت میں "ھَلْ اَتٰی عَلَی الْإِنْسَان"پڑھتے تھے ۱؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کبھی کبھی جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے،اب بھی امام کو چاہیے کہ حصول برکت اور ادائے سنت کے لیے کبھی جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھ لیا کرے۔امام شافعی رحمۃ الله علیہ کے نزدیک جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھنا سنت مؤکدہ ہیں۔خیال رہے کہ امام ہمیشہ ایک ہی معین سورت نماز میں نہ پڑھا کرے کہ اس سے مقتدی دھوکا کھائیں گے کہ شاید یہی سورت پڑھنا واجب ہے دوسری ناجائز،بلکہ ادل بدل کر پڑھا کرے اسی لیے حضورصلی الله علیہ وسلم کے افعال کریمہ اس بارے میں مختلف آرہے ہیں۔چونکہ ان سورتوں میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش،جنت،دوزخ کی پیدائش اور قیامت کے حالات کا تذکرہ ہے اور یہ واقعات جمعہ ہی کو ہوئے اور قیامت بھی جمعہ ہی کو ہوگی لہذا حضورصلی الله علیہ وسلم یہ سورتیں جمعہ کے دن پڑھا کرتے تھے اور غالب یہ ہے کہ آپالٓم سجدہمیں سجدۂ تلاوت بھی کرتے تھےمگر اب فقہاءفرماتے ہیں کہ سواء تراویح کے اور نمازوں میں سجدہ والی آیات و سورتیں نہ پڑھے تاکہ لوگ غلطی میں نہ پڑیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 838