Main Icon

باب:نماز میں قرأءت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 853

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ. قَالَ سُلَيْمَانُ: صَلَّيْتُ خَلْفَهٗ فَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ إِلٰى وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ

وعن سليمان بن يسار عن أبي هريرة قال: ما صليت وراء أحد أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان. قال سليمان: صليت خلفه فكان يطيل الركعتين الأوليين من الظهر ويخفف الأخريين ويخفف العصر ويقرأ في المغرب بقصار المفصل ويقرأ في العشاء بوسط المفصل ويقرأ في الصبح بطوال المفصل. رواه النسائي وروى ابن ماجه إلى ويخفف العصر

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہ پڑھی جو زیادہ مشابہ ہو حضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز کے بمقابلہ فلاں کے ۱؎سلیما ن نے فرمایا کہ میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں دراز کرتے تھے اور آخری رکعتیں ہلکی اور عصر کی ہلکی پڑھتے تھے اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے تھے اور عشاء میں وسط مفصل صبح میں طوال مفصل۲؎(نسائی)اور ابن ماجہ نے یہاں تک روایت کی کہ عصر ہلکی پڑھتے تھے۔

شرح حدیث

۱∞؎فلاں سے مراد حضرت علی مرتضیٰ ہیں یا عمرو ابن سلمہ ابن نفیع یا کوئی اورشخص جو مروان ابن عبدالملک کی طرف سے مدینہ کا والی تھا،بعض لوگوں نے کہا ہے کہ فلاں سے مراد عمر ابن عبدالعزیز ہیں مگر یہ غلط ہے کیونکہ آپ کی ولادت۶۱∞ ھ میں ہے اور حضرت ابوہریرہ کی وفات۵۷ ھ ∞ یا۵۸∞ ھ میں لہذا ابوہریرہ کی ملاقات آ پ سے نہیں ہوئی۔(مرقات)
۲
؎قرآن کریم کے ایک حصہ کا ناممِائینہے ایک کامثانیاور ایک حصہ کا ناممفصل۔سورۂحجراتسےوالناستک مفصل کہلاتا ہے،اس کے پھر تین حصے ہیں:حجراتسےبروجتک طوالِ مفصل،بروجسےلَمْ یَکُنتک اوساط مفصل اورلَمْ یَکُنسےوالنّاستک قصار۔فجر اور ظہر میں طوال پڑھنا اور عصر و عشاء میں اوساط،مغرب میں قصار پڑھنا مستحب ہے،اس مسئلہ کا ماخذیہ حدیث بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 853