Main Icon

باب:متفرقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2658

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهٗ فَمِنْ قَائِلٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ: «لَا حَرَجَ إِلَّا عَلٰى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذٰلِكَ الَّذِي حَرَجَ وهَلَكَ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن أسامة بن شريك قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجا فكان الناس يأتونه فمن قائل: يا رسول الله سعيت قبل أن أطوف أو أخرت شيئا أو قدمت شيئا فكان يقول: «لا حرج إلا على رجل اقترض عرض مسلم وهو ظالم فذلك الذي حرج وهلك» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن شریک سے ۱؎فرماتے ہیں میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حج میں نکلا لوگ آپ کے پاس آتے تھے تو کوئی ملنے والا کہتا یا رسول اللّٰه میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی ۱؎یا کوئی رکن پیچھے کر دیا ۲؎یا آگے کر لیاتو آپ فرماتے تھے کوئی حرج نہیں ۳؎ہاں حرج اس شخص پر ہے جو ظلم کر تے ہوئے کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرے یہ وہ شخص ہے جو نقصان میں گیا اور ہلاک ہوگیا۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اسامہ ابن شریک ذیبانی ثعلبی ہیں،کوفہ کے ہیں،صحابی ہیں،ان سے زیادہ ابن علاقہ وغیرہ نے روایات لیں۔
۲
؎یعنی احرام باندھ کر جب مکہ معظمہ حاضر ہوا تو طواف قدوم سے پہلے سعی کرلی،پھر طواف قدوم کیا،حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ پہلے طواف قدوم کرتا پھر سعی۔
۳
؎حرجکے معنے پہلے عرض کردیئے گئے کہ ان تبدیلیوں سے حج باطل نہ ہوگا یا گناہ نہیں جب کہ سہوًا کیا ہو کہ حج میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے غلطیاں ہوجاتی ہیں اگرچہ بعض صورتوں میں دم یا کفارہ ہوجائے گا۔
۴
؎اس جملہ سے معلوم ہوا کہ گزشتہ تمام جگہ حرج سے مراد گناہ تھا نہ کہ کفارہ وغیرہ۔ظلم کی قید اس لیے لگائی کہ ضرورۃً یا سزاءً تو مسلمان کی جان بھی لے سکتے ہیں،آخر قصاص،رجم میں جان لی جاتی ہے۔خلاصہ جواب یہ ہے کہ عبادات کی غلطی کا بدل ہوسکتا ہے۔معاملات درست کرو کہ معاملات میں زیادتی حقوق العباد سے ہے جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتے،حاجی کو چاہیے کہ حج کے بعد اپنے معاملات بہت صاف رکھے اور کوئی حرکت ایسی نہ کرے جس سے حج برباد ہوجائے،حج کو سنبھالے رکھنا آسان ہے مگر بچانا مشکل۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2658