Main Icon

باب:متفرقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2657

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ فَقَالَ: اِحْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ . وَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ:اِرْمِ وَلَا حَرَجَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن علي قال: أتاه رجل فقال: يا رسول الله إني أفضت قبل أن أحلق فقال: احلق أو قصر ولا حرج . وجاء آخر فقال: ذبحت قبل أن أرمي. قال:ارم ولا حرجرواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا بولا یارسول اللّٰه میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف کر لیا فرمایا کوئی حرج نہیں اب منڈالو یا کتروالو ۱؎دوسرا آیا عرض کیا میں نے رمی سے پہلے ذبح کرلیا فرمایا کوئی حرج نہیں رمی کرلو ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی طواف سرمنڈانے کے بعد سنت تھا لیکن اگر اس کے برعکس ہوگیا تو خیر،نہ اس میں گناہ ہے نہ قربانی،نہ کفارہ نہ کوئی فدیہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔
۲
؎رمی سے پہلے ذ بح کرلینے میں مفرد یعنی صرف حج کرنے والے پر نہ گنا ہ ہے نہ فدیہ،نہ کفارہ یا نہ قربانی،ہاں بہتر تھا کہ رمی کے بعد کرتا مگر قران و تمتع والے پر عمدا ً ایسا کرنے میں گناہ بھی ہے کفارہ بھی اور خطاءً ایسا ہوجانے پر گناہ تو نہیں مگر کفارہ واجب ہے۔ اس کی تفصیل کتب فقہ میں اور مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔یہ شخص اگر مفرد تھا تب تو گناہ و کفارہ دونوں کی نفی ہے اور اگر قارن یا متمتع تھا اور خطاءً ایسا کر بیٹھا تو گناہ کی نفی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2657