Main Icon

باب:متفرقات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2656

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى فَيَقُولُ: «لَا حَرَجَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَمَا أَمْسَيْتُ. فَقَالَ: «لَا حَرَجَ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يسأل يوم النحر بمنى فيقول: «لا حرج، فسأله رجل، فقال: رميت بعدما أمسيت. فقال: «لا حرج » . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم منٰی میں بقرعید کے دن سوالات کیے جاتے تھے حضور یہ ہی فرماتے تھے ۱؎کوئی حرج نہیں ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ میں نے شام کے بعد رمی کی فرمایا کوئی حرج نہیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دن بھر سوالات وجوابات کا سلسلہ قائم رہا کہ لوگ حضور سے پوچھتے تھے۔حضور خندہ پیشانی سے جواب دیتے تھے،یہ مطلب نہیں کہ حضور نے بہت حج کیے اور ہر حج میں یہ سوال وجواب کے واقعات پیش آئے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ شام سے مراد سورج ڈوبنے کے بعد کا وقت ہے صبح کا مقابل لہذا یہ حدیث احناف کے موافق ہے اور شوافع کے خلاف کہ ان کے ہاں بقر عید کے دن کی ر می اگر سورج ڈوبے کی جائے تو قربانی واجب ہے،ہمارے ہاں گنہگار ہوگا قربانی واجب نہ ہوگی،البتہ اگر گیارھویں تاریخ کویہ رمی کرے تو دم واجب ہے۔خیال رہے کہ بقر عید کے دن جمرہ عقبہ کی رمی صبح صادق کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مکروہ ہے،سورج نکلنے سے زوال سے پہلے تک سنت،زوال سے سورج چھپنے تک جائز،رات میں جائز مگر مکروہ اور کل کوکرنا خلاف واجب ہے،جس میں قربانی لازم۔گیارھویں،بارھویں بقرعید کو جمروں کی رمی زوال کے بعد سے سورج ڈوبے تک سنت ہے اور رات میں مکروہ تیرہ ۱۳ذی الحجہ تک ان کی قضا کا وقت ہے،تیرھویں کے بعد نہ ادا کا وقت ہے نہ قضا کا،یہ تفصیل یاد رکھنی چاہیے،یہاں حرج نہیں کہ معنے ہیں قربانی واجب نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2656