Main Icon

باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2984

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطٰى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهٗ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفٰى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهٖ أَجْرَهٗ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قال الله تعالى: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر ورجل باع حرا فأكل ثمنه ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره ". رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہاللّٰهتعالٰی فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین شخصوں کا مدمقابل ہوں گا ۱؎ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ دے پھر عہد شکنی کرے ۲؎دوسرا وہ شخص جو آزاد کو بیچے پھر اس کی قیمت کھائے ۳؎تیسرا وہ شخص جو مزدور سے کام پورا لے اور اس کی مزدوری نہ دے ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سخت سزا دوں گا جیسے کوئی دشمن اپنے دشمن پر قابو پائے تو اس کی کوئی رعایت نہیں کرتا،ایسے ہی میں انکی رعایت و رحم نہ کروں گا لہذا یہ حدیث واضح ہے۔
۲
؎اس کی بہت صورتیں ہیں:کسی کو خدا کا نام لے کر امان دی پھر موقعہ پاکر اسے قتل کردیا،کسی سے رب کی قسم کھا کر کوئی وعدہ کیا پھر پورا نہ کیا،عورت سے رب تعالٰی کا نام لے کر بہت سے وعدوں پر نکاح کیا،پھر وہ ادا نہ کیے،اسی لیے نکاح کے وقت کلمے پڑھاتے ہیں کہ دونوں خاوند بیوی حقوق میں جکڑ جائیں،رب تعالٰی فرماتاہے:" الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪"۔غرضکہ وعدہ خلافی یوں ہی بری ہے مگر جب وعدہ رب تعالٰی کا نام لے کر کیا گیا ہو،پھر خلاف کرنا زیادہ برا کہ اس میںاللّٰهتعالٰی کے نام شریف کی بے حرمتی بھی ہے۔
۳
؎کھانے کا ذکر اتفاقی ہے وہ قیمت کھائے یا نہ کھائے،آزاد کو غلام بنا کر فروخت کردینا ویسے ہی بہت برا ہے،یوسف علیہ السلام کے بھائی اسی جرم پر زیادہ شرمندہ تھے جن کی معافی ہوئی۔
۴
؎کام پورا لینے میں اسی جانب اشارہ ہے کہ اگر مزدور ہی بیچ میں کام چھوڑ دے شرارۃً تو وہ مزدوری کا حقدارنہیں،نائی آدھی حجامت کرکے انکارکردے تو بجائے اجرت کے سزا کا مستحق ہوگا،کام پورا کرنے پر اجرت کا مستحق ہوگا،روزانہ اجرت دی جائے یا ماہوار جو طے ہوگیا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2984