Main Icon

باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2983

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللّٰهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» . فَقَالَ أَصْحَابُهٗ : وَأَنْتَ؟ فَقَالَ:«نَعَمْ كُنْتُ أَرْعٰى عَلٰى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما بعث الله نبيا إلا رعى الغنم» . فقال أصحابه : وأنت؟ فقال:«نعم كنت أرعى على قراريط لأهل مكة» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہاللّٰهنے کوئی نبی نہ بھیجا مگر انہوں نے بکریاں چرائیں ۱؎صحابہ نے عرض کیا حضور آپ نے فرمایا ہاں میں مکہ والوں کی بکریاں کچھ قیراط کے عوض چَراتا تھا ۲؎(بخاری)روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہاللّٰهنے کوئی نبی نہ بھیجا مگر انہوں نے بکریاں چرائیں ۱؎صحابہ نے عرض کیا حضور آپ نے فرمایا ہاں میں مکہ والوں کی بکریاں کچھ قیراط کے عوض چَراتا تھا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بکریاں چَرانے سے طبیعت میں حلم و بردباری،محنت کا شوق،ملکی انتظام کی قابلیت اور رعایا پروری پیدا ہوتی ہے کہ بکریاں ہر وقت محافظ کی حاجت مند ہوتی ہیں اور ان میں انتظام نہیں ہوتا،ہر ایک جدھر منہ اُٹھا چل دیتی ہے،جو انہیں سنبھال لے گا،وہان شاءاللهتعالٰیرعایا کو بھی سنبھال لے گا،تبلیغ خوب کرسکے گا،عام طور پر رعایا کو بکریوں سے اور بادشاہ کو چرواہے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
۲
؎قراریط قیراطکی جمع ہے،قیراط دینار کا بیسواں حصہ یا چوبیسواں حصہ ہے،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اہل مکہ کی بکریاں ایک قیراط روز یا ماہوار کے عوض چرائی ہیں۔خیال رہے کہ نبی تبلیغ دین پر اجرت نہیں لیتے،دوسرے کاموں پر اجرت لیتے ہیں لہذا یہ حدیث قرآن کریم کی آیت"لَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ اَجْرًا"کے خلاف نہیں کہ وہاںعلیہسے مراد دین کی تبلیغ ہے،بعض لوگوں نے کہا کہقراریطمکہ معظمہ میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں حضور انور بغیر اجرت بکریاں چَراتے تھے مگر یہ درست نہیں،ورنہ یہ حدیثباب الاجارہمیں نہ لائی جاتی لہذا حق یہ ہی ہے کہقراریط قیراطکی جمع ہے۔(مرقات و لمعات وغیرہ)اشعہ میں شیخ نے فرمایا کہاللّٰهتعالٰی نے نبوت بادشاہوں و امیروں میں نہ رکھی بلکہ بکری چَرانے اور تواضع کے پیشہ کرنے والوں میں رکھی۔چنانچہ ایوب علیہ السلام درزی گری کرتے تھے،زکریا علیہ السلام بڑھئی پیشہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2983