- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 2986
باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2986
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهٖ قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلٰى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هٰذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ؟ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُود فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَجَاؤُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ قَالَ: فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا فَقُلْتُ: لَا حَتّٰى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلْ فَلَعُمُرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ
عن خارجة بن الصلت عن عمه قال: أقبلنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتينا على حي من العرب فقالوا: إنا أنبئنا أنكم قد جئتم من عند هذا الرجل بخير فهل عندكم من دواء أو رقية؟ فإن عندنا معتوها في القيود فقلنا: نعم، فجاؤوا بمعتوه في القيود فقرأت عليه بفاتحة الكتاب ثلاثة أيام غدوة وعشية أجمع بزاقي ثم أتفل قال: فكأنما أنشط من عقال فأعطوني جعلا فقلت: لا حتى أسأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «كل فلعمري لمن أكل برقية باطل لقد أكلت برقية حق» . رواه أحمد وأبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت خارجہ ابن صلت سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس آئے تو عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے وہ لوگ بولے ہمیں خبر ملی ہے کہ تم ان محبوب کے پاس سے بڑی خیر لے کر آئے ہو ۲؎تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا دم درود ہے ہمارے ہاں ایک دیوانہ قید میں بندھا ہوا ہے ۳؎ہم بولے ہاں چنانچہ وہ لوگ بیڑیاں پہنے ایک دیوانہ لائے میں نے تین دن تک صبح شام اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی کہ اپنا تھوک جمع کرتا پھر اس پر تھتکار دیتا تھا۴؎وہ تو گویا رسیوں سے کھل گیا انہوں نے مجھے کچھ اجرت پیش کی میں بولا نہیں حتی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھ لوں ۵؎حضور نے فرمایا کھاؤ میری زندگی کی قسم یہ اجرت اسی کے لیے ہے جو جھوٹے دم سے کھائے تم نے توسچے دم سے کھایا ہے ۶؎(احمد،ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎خارجہ بنی تمیم سے ہیں،تابعی ہیں،ان کے چچا کا نام معلوم نہ ہوا مگر چونکہ وہ صحابی ہیں لہذا ان کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں کہ صحابہ سب عادل اور ثقہ ہیں۔(مرقات)
۲؎غالبًا یہ حضرات اپنی قوم کے نمائندہ بن کر وفد کی شکل میں بارگاہ عالی میں حاضر ہوئے،وہاں سے واپسی پر یہ واقعہ پیش آیا اس زمانہ میں جو حضور کے پاس آتا تھا تو لوگ اس کی آنکھوں کی زیارتیں کیا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بڑے داتا کے دربار سے آرہے ہیں، بھرے پڑے آئے ہوں گے معلوم کیا کیا لائے ہوں گے،اسی سلسلہ میں یہ لوگ بھی ان سے ملنے آئے اور عرض کیا،اب بھی ہم نے دیکھا کہ مدینہ سے آنے والوں کی آنکھیں لوگ چومتے ہیں،ان کے ہاتھ پیروں پر پیشانیاں رگڑتے ہیں،یہ نئی بات نہیں زمانہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم سے چلی آرہی ہیں۔خیر سے مراد دین اور دنیا کی بھلائی ہے اسی لیے ان لوگوں نے دوا کا ذکر بھی کیا اور دعا کا بھی۔
۳؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور کے آستانے بوسوں سے فریادکرنا اور ان پر اپنے دکھ درد پیش کرکے دفعیہ کے لیے عرض کرنا سنت صحابہ ہے،وہ ایسا دیوانہ تھا جسے باندھنا پڑ گیا تھابالکل ہی مخبوط الحواس۔
۴؎اب بھی بعض صوفیاء کچھ پڑھ کر بیمار پر تھپکار دیتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے بعض صرف پھونک مار دیتے ہیں اس کی روایتیں بھی ہیں۔منشاء یہ ہوتا ہے کہ جیسے پھولوں سے لگ کر ہوا مہک جاتی ہے اور دور تک لوگوں کے دماغ معطر کردیتی ہے،ایسے ہی قرآن والے منہ میں رہ کر ہوا یا تھوک میں شفا کی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے،بھٹی کے پاس ہوا گرم ہوتی ہے،پانی کے پاس ٹھنڈی،ایسے ہی قرآن کے پاس کی ہوا شافی ہوتی ہے۔خیال رکھیئے کہ جانوروں کے نام میں تاثیر ہے،کسی کو شیر کہہ دیا خوش ہوگیا،گدھا کہہ دیا ناراض ہوگیا تو کیا خالق کے ناموں میں تاثیر نہ ہوگی،ضرور ہوگی۔
۵؎یعنی میرے دم سے اتنا فائدہ ہوا کہ اسے بالکل ہی آرام ہوگیا گویا مرض نے اسے جکڑ رکھا تھا اس دم سے کھل گیا۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ چند ساعتوں کی صحبت میں حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم سے علم،عمل وغیرہ سب کچھ ہی لے آتے تھے۔خیال رہے کہ اسے اجرت کہنا مجازًا ہے درحقیقت یہ نذرانہ تھا اجرت پہلے طے کی جاتی ہے۔
۶؎معلوم ہوا کہ ناجائز اور جھوٹے جنتر منتر پر اجرت یا نذرانہ لینا حرام ہے حق دم درود پر اجرت بھی جائز نذرانہ بھی۔لَعُمْرِیْقسم شرعی نہیں وہ تو صرف خدا کے نام کی ہوتی ہے بلکہ قسم لغوی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ"انجیر اور زیتون کی قسم، لہذا یہ فرمان عالی اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ غیر خداکی قسم نہ کھاؤ،لِمَنْ اَكَلَکی خبر محذوف ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2986