Main Icon

باب: کرایہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2986

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهٖ قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلٰى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هٰذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ؟ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُود فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَجَاؤُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ قَالَ: فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا فَقُلْتُ: لَا حَتّٰى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلْ فَلَعُمُرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

عن خارجة بن الصلت عن عمه قال: أقبلنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتينا على حي من العرب فقالوا: إنا أنبئنا أنكم قد جئتم من عند هذا الرجل بخير فهل عندكم من دواء أو رقية؟ فإن عندنا معتوها في القيود فقلنا: نعم، فجاؤوا بمعتوه في القيود فقرأت عليه بفاتحة الكتاب ثلاثة أيام غدوة وعشية أجمع بزاقي ثم أتفل قال: فكأنما أنشط من عقال فأعطوني جعلا فقلت: لا حتى أسأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «كل فلعمري لمن أكل برقية باطل لقد أكلت برقية حق» . رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خارجہ ابن صلت سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے پاس آئے تو عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے وہ لوگ بولے ہمیں خبر ملی ہے کہ تم ان محبوب کے پاس سے بڑی خیر لے کر آئے ہو ۲؎تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا دم درود ہے ہمارے ہاں ایک دیوانہ قید میں بندھا ہوا ہے ۳؎ہم بولے ہاں چنانچہ وہ لوگ بیڑیاں پہنے ایک دیوانہ لائے میں نے تین دن تک صبح شام اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی کہ اپنا تھوک جمع کرتا پھر اس پر تھتکار دیتا تھا۴؎وہ تو گویا رسیوں سے کھل گیا انہوں نے مجھے کچھ اجرت پیش کی میں بولا نہیں حتی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھ لوں ۵؎حضور نے فرمایا کھاؤ میری زندگی کی قسم یہ اجرت اسی کے لیے ہے جو جھوٹے دم سے کھائے تم نے توسچے دم سے کھایا ہے ۶؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎خارجہ بنی تمیم سے ہیں،تابعی ہیں،ان کے چچا کا نام معلوم نہ ہوا مگر چونکہ وہ صحابی ہیں لہذا ان کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں کہ صحابہ سب عادل اور ثقہ ہیں۔(مرقات)
۲
؎غالبًا یہ حضرات اپنی قوم کے نمائندہ بن کر وفد کی شکل میں بارگاہ عالی میں حاضر ہوئے،وہاں سے واپسی پر یہ واقعہ پیش آیا اس زمانہ میں جو حضور کے پاس آتا تھا تو لوگ اس کی آنکھوں کی زیارتیں کیا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بڑے داتا کے دربار سے آرہے ہیں، بھرے پڑے آئے ہوں گے معلوم کیا کیا لائے ہوں گے،اسی سلسلہ میں یہ لوگ بھی ان سے ملنے آئے اور عرض کیا،اب بھی ہم نے دیکھا کہ مدینہ سے آنے والوں کی آنکھیں لوگ چومتے ہیں،ان کے ہاتھ پیروں پر پیشانیاں رگڑتے ہیں،یہ نئی بات نہیں زمانہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم سے چلی آرہی ہیں۔خیر سے مراد دین اور دنیا کی بھلائی ہے اسی لیے ان لوگوں نے دوا کا ذکر بھی کیا اور دعا کا بھی۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور کے آستانے بوسوں سے فریادکرنا اور ان پر اپنے دکھ درد پیش کرکے دفعیہ کے لیے عرض کرنا سنت صحابہ ہے،وہ ایسا دیوانہ تھا جسے باندھنا پڑ گیا تھابالکل ہی مخبوط الحواس۔
۴
؎اب بھی بعض صوفیاء کچھ پڑھ کر بیمار پر تھپکار دیتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے بعض صرف پھونک مار دیتے ہیں اس کی روایتیں بھی ہیں۔منشاء یہ ہوتا ہے کہ جیسے پھولوں سے لگ کر ہوا مہک جاتی ہے اور دور تک لوگوں کے دماغ معطر کردیتی ہے،ایسے ہی قرآن والے منہ میں رہ کر ہوا یا تھوک میں شفا کی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے،بھٹی کے پاس ہوا گرم ہوتی ہے،پانی کے پاس ٹھنڈی،ایسے ہی قرآن کے پاس کی ہوا شافی ہوتی ہے۔خیال رکھیئے کہ جانوروں کے نام میں تاثیر ہے،کسی کو شیر کہہ دیا خوش ہوگیا،گدھا کہہ دیا ناراض ہوگیا تو کیا خالق کے ناموں میں تاثیر نہ ہوگی،ضرور ہوگی۔
۵
؎یعنی میرے دم سے اتنا فائدہ ہوا کہ اسے بالکل ہی آرام ہوگیا گویا مرض نے اسے جکڑ رکھا تھا اس دم سے کھل گیا۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ چند ساعتوں کی صحبت میں حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم سے علم،عمل وغیرہ سب کچھ ہی لے آتے تھے۔خیال رہے کہ اسے اجرت کہنا مجازًا ہے درحقیقت یہ نذرانہ تھا اجرت پہلے طے کی جاتی ہے۔
۶
؎معلوم ہوا کہ ناجائز اور جھوٹے جنتر منتر پر اجرت یا نذرانہ لینا حرام ہے حق دم درود پر اجرت بھی جائز نذرانہ بھی۔لَعُمْرِیْقسم شرعی نہیں وہ تو صرف خدا کے نام کی ہوتی ہے بلکہ قسم لغوی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ"انجیر اور زیتون کی قسم، لہذا یہ فرمان عالی اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ غیر خداکی قسم نہ کھاؤ،لِمَنْ اَكَلَکی خبر محذوف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2986